کیا طوطے واقعی ہماری زبان سمجھتے ہیں؟ یا بس نقل اتارتے ہیں؟ جانئے حیرت انگیز حقیقت!

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ایک طوطا ہماری زبان کے الفاظ کیسے دہرا لیتا ہے؟ کیا وہ صرف آوازوں کی نقالی کرتا ہے یا واقعی وہ ہمیں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے؟ یہ سوال بظاہر سادہ لگتا ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک حیرت انگیز حقیقت چھپی ہے۔

سائنسدانوں نے تحقیق کے بعد انکشاف کیا ہے کہ طوطوں کے دماغ میں ایک خاص نظام موجود ہوتا ہے جو انہیں آوازوں کو سمجھنے اور دہرانے کی صلاحیت دیتا ہے۔ ان کا دماغ ان حصوں پر مشتمل ہوتا ہے جو انسانوں میں بولنے اور زبان سیکھنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طوطے ہمارے کہے گئے الفاظ کو سن کر نہ صرف دہرا سکتے ہیں بلکہ بعض اوقات انہیں سمجھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

طوطے فطری طور پر سماجی پرندے ہیں۔ وہ اپنی برادری کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے آوازوں کا سہارا لیتے ہیں۔ جب انہیں انسانوں کے درمیان رکھا جائے تو وہ ہمیں اپنا گروہ سمجھنے لگتے ہیں، اور اسی لیے ہماری بولی کو سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ سیکھنے کا عمل صرف نقل پر مبنی نہیں ہوتا بلکہ کئی طوطے جیسے افریقی گرے پیرٹ تو چیزوں کو پہچاننے، سوالات کے جواب دینے اور مخصوص احکام پر عمل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

بعض طوطے اتنے ذہین ہوتے ہیں کہ وہ سینکڑوں الفاظ یاد رکھ سکتے ہیں۔ وہ اپنے جذبات کا اظہار مختلف آوازوں سے کرتے ہیں اور کبھی کبھار تو ایسے جملے بھی بولتے ہیں جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں سنے ہوتے۔ یہ سب کچھ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ محض ایک عام پرندہ نہیں، بلکہ ایک ذہین اور سیکھنے کی صلاحیت رکھنے والی مخلوق ہیں۔

لہٰذا جب آپ اگلی بار کسی طوطے کو “ہیلو” یا “السلام علیکم” کہتے سنیں، تو یہ مت سمجھیے گا کہ وہ صرف نقل کر رہا ہے۔ اس کے پیچھے ایک ہوشیار دماغ ہے جو آپ کی زبان کو سمجھنے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔ قدرت نے طوطوں کو جو ذہانت عطا کی ہے، وہ واقعی قابلِ تعریف ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں