پنجاب میں سیلاب کا خطرہ، 24 ہزار سے زائد افراد کا انخلا — حکومت، ریسکیو ادارے اور عوام سب الرٹ
پنجاب میں بڑے سیلاب کا خدشہ—ریسکیو ٹیمیں متحرک، ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور، حکومت کا “ہائی الرٹ”۔
سیلاب کی پیشگی وارننگ پر بڑے پیمانے پر انخلا
پنجاب میں ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر حکومت اور ریسکیو ادارے پوری طرح متحرک ہو چکے ہیں۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق، پانچ بڑے دریاؤں — سندھ، چناب، راوی، ستلج اور جہلم — کے کنارے آباد علاقوں سے 24 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
یہ اقدام اس وقت اُٹھایا گیا جب انڈین فلڈ الرٹ کی بنیاد پر ممکنہ تباہی کی پیش گوئی کی گئی، جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر فوری ردعمل دیا گیا۔
ریسکیو فورسز ہائی الرٹ پر
ریسکیو ادارے نے بتایا کہ متاثرہ اضلاع میں:
169 ریسکیو بوٹس
ماہر بوٹ آپریٹرز
ریسکیو سٹاف
متعین کر دیا گیا ہے۔
اضلاع جنہیں ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے ان میں شامل ہیں:
قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، بہاولنگر، وہاڑی اور نارووال۔
دریائے ستلج میں “اونچے درجے کا سیلاب”
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق، دریائے ستلج میں فیروز پور کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
یہ صورتحال مزید خراب ہونے کا امکان ہے، جس سے:
ندی نالوں میں طغیانی
آس پاس کے دیہات زیرِ آب آنے
اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچنے
کا خطرہ ہے۔
الرٹ جاری کرنے والے اضلاع کی فہرست
پی ڈی ایم اے نے درج ذیل اضلاع کو الرٹ جاری کیا ہے:
لاہور، ساہیوال، ملتان، بہاولپور، ڈی جی خان، قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، وہاڑی، بہاولنگر، لودھراں، مظفرگڑھ۔
ریسکیو ٹیموں کو حساس مقامات پر پہلے ہی تعینات کر دیا گیا ہے۔
عوام کو کیا ہدایات دی گئیں؟
پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے عوام سے اپیل کی ہے کہ:
ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں
ممکنہ خطرے کے علاقوں سے بروقت نکل آئیں
مساجد کے ذریعے جاری کردہ وارننگز کو سنجیدگی سے لیں
ایمرجنسی کی صورت میں 1129 پر فوری رابطہ کریں
شدید بارشوں کی نئی لہر — اگلے 48 گھنٹے اہم
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ:
اگلے 48 گھنٹوں میں مون سون کی ایک اور شدید لہر متوقع ہے، جس سے دریا مزید بپھر سکتے ہیں۔
دریائے چناب، راوی اور ستلج میں “اونچی سے بہت اونچی” سیلابی صورتحال کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
جبکہ شہری علاقوں راولپنڈی، لاہور اور گوجرانوالہ میں شہری سیلاب (Urban Flooding) کا بھی خطرہ بڑھ گیا ہے۔
گلگت بلتستان میں بھی تباہی
پنجاب کے ساتھ ساتھ، گلگت بلتستان میں بھی سیلابی صورت حال سنگین ہے:
گلیشیئرز پھٹنے کے باعث اچانک سیلاب
ہزاروں افراد بے گھر
اشیائے ضروریہ کی قلت
حکومتی امداد کی فوری ضرورت
وزیراعظم کی ہدایات اور قومی مہم کا آغاز
وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ سیلابی صورتحال پر سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا:
“سیلاب زدگان کی مدد قومی فریضہ ہے، تمام ادارے تیار رہیں۔”
انہوں نے دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام کے لیے قومی سطح کی مہم شروع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
اب تک کی ہلاکتیں اور نقصان
این ڈی ایم اے کے مطابق، 26 جون سے جاری مون سون بارشوں اور سیلابی صورتحال کے نتیجے میں:
750 سے زائد افراد جاں بحق
سیکڑوں زخمی
ہزاروں مکانات اور پل تباہ
لاکھوں افراد متاثر
پنجاب اور پاکستان کے دیگر حصوں میں سیلابی خطرہ شدید ہوتا جا رہا ہے۔
ریسکیو ٹیمیں متحرک ہیں، مگر عوامی تعاون، بروقت انخلا اور پیشگی احتیاط ہی اصل تحفظ ہے۔
اگر آپ ندی، دریا یا نشیبی علاقے میں رہتے ہیں تو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔




