پانی میں گھومنے سے سیلاب نہیں رکتا۔ سیلاب منصوبہ بندی، وقت پر اقدامات اور سنجیدہ قیادت سے رکتا ہے۔
سیلاب بھی اب میڈیا کورج کا بہانہ بن گیا؟ یا مریم نواز کا نیا فوٹو سیشن؟”
عوامی مسائل کے حل کی بجائے کیمرے کے سامنے “ہمدردی کی تصویریں” اب سیاست کا نیا چہرہ بن چکی ہیں۔ حالیہ دنوں میں مریم نواز کی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پانی میں کشتی پر سیر کرتے مناظر نے ایک بار پھر وہی سوال زندہ کر دیا ہے:
کیا پانی میں گھومنے سے سیلاب کا پانی رک جائے گا؟ یا یہ بھی صرف افتتاحی نمائش تھی؟
🎯 اصل مسئلہ: نمائشی سیاست
مریم نواز کی یہ “سیلابی وزٹ” بظاہر ہمدردی کا اظہار ہے، مگر عوام کے لیے یہ صرف ایک اور فوٹو سیشن تھا۔
جب ہر سال سیلاب آتا ہے، جب ہزاروں گھر اجڑتے ہیں، جب بچے، خواتین، بزرگ پانی میں بے یارو مددگار ہوتے ہیں —
تو اس وقت نہ حکومت ہوتی ہے، نہ کوئی منصوبہ، نہ کوئی بند، نہ کوئی بچاؤ کا نظام۔
لیکن جیسے ہی میڈیا کیمرے آن ہوتے ہیں، وی آئی پی وزٹس شروع ہو جاتے ہیں۔
❓ کیا ہونا چاہیے تھا؟
-
مریم نواز اور ان کی حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ:
-
سیلاب سے پہلے حفاظتی اقدامات کرتی
-
نالوں اور دریاؤں کی صفائی کرواتی
-
متاثرین کے لیے بروقت ریلیف کیمپ بنواتی
-
ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان عوام کے سامنے لاتی
لیکن ہوا کیا؟
صرف “پانی میں گھومنے” کا مظاہرہ، جس سے نہ سیلاب رکا، نہ عوام کی مشکلات کم ہوئیں۔
-
👥 عوام کا ردعمل:
سوشل میڈیا پر عوام نے سخت ردعمل دیا:
-
“سیلاب کا بھی شاید افتتاح کرنا ضروری تھا!”
-
“کیا ہر سال فوٹو سیشن کے لیے عوام کو ڈوبنا ضروری ہے؟”
-
“کام کرو، ڈرامے بند کرو!”
یہ وہ آوازیں ہیں جو گونج رہی ہیں — اور وہ بتا رہی ہیں کہ اب عوام صرف تصویریں نہیں، نتائج چاہتے ہیں۔
سیلاب، زلزلے یا کوئی اور قدرتی آفت — ان کا مقابلہ صرف کیمروں کے سامنے کشتی چلانے سے نہیں، پلاننگ، سنجیدگی اور بروقت عملی اقدامات سے کیا جا سکتا ہے۔
ورنہ عوام کو ہر سال پانی میں ڈوبنے، اور حکمرانوں کو کیمرے میں ہمدرد بننے کا ڈرامہ دیکھنے کو ملتا رہے گا۔



