سیلاب، طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ: پاکستان میں تباہی کی نئی لہر!
پاکستان کے مختلف علاقوں میں حالیہ موسمیاتی آفات نے تباہی مچا دی ہے۔ مسلسل بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں نے سڑکوں کو بند کر دیا ہے، تعلیمی ادارے تعطیل پر ہیں، اور عوامی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔
🌧️ بارشوں کی شدت اور لینڈ سلائیڈنگ
آزاد کشمیر کے ضلع کوٹلی اور اس کے گردونواح میں مسلسل بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آئے ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد مقامی سڑکیں آمد و رفت کے لیے عارضی طور پر بند ہو گئی ہیں۔ ان سڑکوں میں ککنی بگاہ روڈ، دھناں لفٹ سٹاپ روڈ، رہیاں تا کوٹلی روڈ اور گوئی تا دندلی روڈ شامل ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے مشینری روانہ کر دی ہے اور سڑکوں کو جلد از جلد بحال کرنے کے لیے کام جاری ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں کو ندی نالوں، دریاؤں اور تیز بہاؤ والے پانی کے قریب جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
🏫 تعلیمی اداروں کی تعطیل
سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث آزاد کشمیر میں تعلیمی ادارے دو روز کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔ سوات کے مختلف علاقوں میں بھی ندی نالوں میں طغیانی آ گئی ہے، جس کے باعث پانی گھروں میں داخل ہو گیا ہے۔ مختلف سکولوں میں پھنسے 900 بچوں کو اور گھروں میں محصور خواتین کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
🚧 سڑکوں کی بندش اور مواصلاتی نظام کی مشکلات
سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مختلف علاقوں کی سڑکیں بند ہو گئی ہیں، جس سے مواصلاتی نظام متاثر ہوا ہے۔ گلگت بلتستان کے بابوسر ٹاپ کے قریب شدید لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب سے گاڑیاں اور پل بہہ گئے، رابطہ سڑکیں اور مواصلاتی نظام تباہ ہوگیا۔ سیلابی ریلے میں بہہ کر 3 افراد دم توڑ گئے جبکہ درجنوں سیاح تاحال لاپتہ ہیں۔
🆘 امدادی کارروائیاں اور حکومتی ردعمل
ریسکیو آپریشنز جلد از جلد شروع کیے گئے ہیں، جن میں فوج، ریسکیو 1122، اور دیگر ادارے حصہ لے رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے وفاقی وزراء کی تنخواہوں کا ایک ماہ کا معاوضہ عطیہ کرنے کا اعلان کیا اور امدادی سرگرمیوں میں مکمل معاونت پر زور دیا۔ صوبائی حکومت نے متاثرہ اضلاع کے لیے 800 ملین روپے جاری کیے ہیں، جبکہ بُنے کے لیے مزید 500 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ٹینٹ، خوراک، طبی امداد، جنریٹر، ایئر لفٹ اور دیگر امدادی سامان فوری ترسیل کے ذریعے متاثرین تک پہنچایا جا رہا ہے۔
⚠️ موسمیاتی خدشات اور آئندہ خطرہ
ماہرین نے موسمیاتی تبدیلی اور مونسون کی شدت میں اضافہ کو اس سانحے کا بڑا سبب قرار دیا ہے۔ پاکستان میں جنگلات کی کٹائی اور خطرناک ماحولیاتی نظام نے سیلابی ماحول کو مزید شدید کر دیا۔ موسمیاتی پیشگوئی کے مطابق سیلابی بارشیں اگست کے آخر تک جاری رہنے کا امکان ہے، جس سے مزید نقصان کا خطرہ بڑھ چکا ہے۔




