تاریخ میں پہلی بار: افواج پاکستان کے ترجمان کا اسکائی نیوز کو انٹرویو میں بڑا اعلان

“مسئلہ کشمیر ایک خارجی مسئلہ ہے جس کے تین فریق ہیں — پاکستان، بھارت اور چین۔ یہ مسئلہ مقامی کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل ہونا چاہیے۔”

یہ بیان پاکستان کی افواج کے ترجمان کی جانب سے تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے، جس میں انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے نئی سیاسی حقیقتوں کا اعتراف کیا ہے۔ تاہم، مسئلہ کشمیر کی پیچیدگی اور جغرافیائی حیثیت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے چار مختلف فریقوں کو مدنظر رکھا جائے:

مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ لداخ کارگل

آزاد جموں و کشمیر

گلگت بلتستان

گلگت بلتستان میں چینی مداخلت اور آئندہ کے خدشات
پاکستان کے گلگت بلتستان کے ضلع شگر کے علاقے شاکسگم کو 1963 میں مقامی عوام کی اجازت کے بغیر حکومت پاکستان نے عارضی طور پر چین کے حوالے کیا تھا۔ علاوہ ازیں، گلگت بلتستان کے مقبوضہ اضلاع کارگل اور لداخ کے ایک حصے آکسائی چن پر چینی حکومت نے بھارت سے کنٹرول سنبھالا ہوا ہے۔ اس پس منظر میں، حکومت پاکستان کے اس بیان سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ مسئلہ کشمیر سمیت گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کا معاملہ جلد حل کیا جائے گا، اور چینی مداخلت کے اثرات پر غور کیا جائے گا۔

واخان کوریڈور اور دیگر جغرافیائی پیچیدگیاں
گلگت بلتستان کے علاقہ واخان کوریڈور، جو تاجکستان کی سرحد سے ملحق ہے، انگریز حکومت نے روس کے خوف سے ایک بفر زون کے طور پر افغانستان میں شامل کر دیا تھا۔ یہ علاقہ آج بھی جغرافیائی اعتبار سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
اسی طرح، خیبر پختونخوا کی حکومت نے دیامر، کوہستان اور چترال کے کچھ گلگت بلتستانی علاقوں پر بھی ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، جو علاقائی سیاسی تناؤ میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں