تاریخ بے رحم گواہ ہوگی — جلالپور میں انسانیت پانی میں ڈوبی اور ضمیر کشتیوں میں بکنے لگے۔

جلالپور میں جب پانی ہر طرف پھیل چکا تھا، جب لوگ مدد کے لیے ہاتھ پھیلا رہے تھے، جب کوئی راستہ، کوئی سہارا باقی نہ بچا تھا — تب کچھ لوگوں نے کشتیوں کو نجات کا ذریعہ نہیں، بلکہ منافع کا موقع سمجھا۔

یہ منظر صرف ایک قدرتی آفت نہیں تھا، بلکہ ایک اخلاقی المیہ بھی تھا۔ ڈوبتے انسانوں کو بچانے کے لیے جو کشتیاں موجود تھیں، ان کے “مالکان” نے زندگی کی قیمت لگانا شروع کر دی۔ پیسے دو، تو بچاؤ ہوگا — ورنہ قسمت جانے۔

ایسے واقعات صرف لمحاتی غفلت نہیں ہوتے، یہ تاریخ کے صفحات پر سیاہ دھبے بن جاتے ہیں۔ آنے والی نسلیں جب یہ پڑھیں گی کہ “جلالپور میں لوگ ڈوب کر مر رہے تھے اور کشتیوں والے پیسے مانگ رہے تھے”، تو وہ صرف افسوس نہیں کریں گی، وہ ہم سب سے سوال کریں گی کہ تب انسانیت کہاں تھی؟

یہ لمحہ صرف متاثرین کے لیے نہیں، ہم سب کے لیے ایک آئینہ ہے۔ خدارا، اپنے اندر کے انسان کو مرنے نہ دیں۔ ہوس، خودغرضی، اور موقع پرستی کے اس سیلاب میں اگر کچھ بچا سکتا ہے، تو وہ رحم، غیر مشروط مدد، اور ضمیر کی آواز ہے۔

یاد رکھیں، قدرت کے عذاب ختم ہو سکتے ہیں، لیکن انسانی بےحسی کا حساب کبھی معاف نہیں ہوتا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں