26 نومبر احتجاج کیس: انصاف کی راہ میں ایک قدم — پی ٹی آئی کے 21 کارکنوں کو ضمانت”

راولپنڈی کی مقامی عدالت نے 26 نومبر کو ہونے والے احتجاج سے متعلق کیس میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے 21 کارکنوں کی ضمانتیں منظور کر لی ہیں۔ یہ وہی احتجاج تھا جو پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے “پرامن سیاسی اظہار” قرار دیا گیا، جبکہ حکومت نے اسے “امن و امان کے خلاف کارروائی” کے زمرے میں لا کر سینکڑوں افراد کے خلاف مقدمات قائم کیے۔

عدالت میں سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ کارکن پرامن احتجاج کا آئینی حق استعمال کر رہے تھے اور ان کے خلاف درج مقدمات سیاسی انتقام کے سوا کچھ نہیں۔ جج نے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ استغاثہ کی جانب سے فراہم کردہ شواہد ضمانت رد کرنے کے لیے ناکافی ہیں، لہٰذا تمام 21 افراد کی عبوری ضمانت منظور کی جاتی ہے۔

یہ فیصلہ پی ٹی آئی کے لیے ایک بڑی قانونی اور اخلاقی فتح قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ان دنوں میں جب پارٹی کو مختلف نوعیت کے سیاسی اور قانونی محاذوں پر دباؤ کا سامنا ہے۔ اس پیش رفت کو پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں نے “حق کی جیت” اور “سیاسی انتقام کے خلاف مزاحمت کی کامیاب مثال” قرار دیا ہے۔

دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ محض ابتدائی ریلیف ہے، اصل مقدمات اب بھی زیر سماعت ہیں، اور اگر ملزمان قصوروار پائے گئے تو قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

یہ فیصلہ نہ صرف کارکنوں کے حوصلے بلند کرے گا بلکہ سیاسی منظرنامے پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جہاں سیاسی کارکنوں کے آئینی حقوق اور پرامن احتجاج کے دائرے پر بحث مزید شدت اختیار کرے گی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں