“میں صوبے کا سربراہ ہوں، فوج میرے انتظامی کام میں مداخلت نہیں کرتی” — علی امین گنڈا پور

علی امین گنڈا پو

“معافی ہم کیوں مانگیں؟ جنہوں نے آئین توڑا، اُنہیں معافی مانگنی چاہیے!” — علی امین گنڈا پور کا دوٹوک پیغام

اداروں کے درمیان آئینی توازن کی مثال یا وقتی ہم آہنگی؟

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے ایک حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ ان کے صوبے میں فوج کسی قسم کے انتظامی معاملات میں مداخلت نہیں کر رہی، اور نہ ہی فوج کی جانب سے اب تک کوئی ٹرانسفر یا پوسٹنگ کی سفارش کی گئی ہے۔

“میں صوبے کا سربراہ ہوں، اور آج تک فوج نے میرے کسی انتظامی اختیار میں مداخلت نہیں کی۔”

یہ بیان اُس عمومی تاثر کی نفی کرتا ہے جو اکثر پاکستان میں فوج کے سول معاملات میں اثر و رسوخ کے حوالے سے پایا جاتا ہے، خاص طور پر صوبائی حکومتوں میں۔


“ماضی کے واقعات سے فوج اور عمران خان کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے”

علی امین گنڈا پور نے پہلی بار کھل کر اس بات کا اعتراف کیا کہ عمران خان اور فوج کے درمیان تعلقات اب بھی کشیدہ ہیں۔
ان کے مطابق:

“ماضی کے کچھ واقعات کی وجہ سے فوج اور عمران خان کے درمیان اعتماد بحال نہیں ہو سکا۔”

یہ بیان اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جو فاصلے پیدا ہوئے، وہ صرف سیاسی نہیں بلکہ گہرے ادارہ جاتی اور ذاتی نوعیت کے ہیں۔


“میں نے ڈائیلاگ کا آغاز کیا، مگر پھر وہ ختم ہو گئے”

وزیراعلیٰ کے مطابق انہوں نے فوجی قیادت سے ڈائیلاگ کا آغاز کیا تاکہ سیاسی کشیدگی ختم ہو سکے، لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔

“میں نے رابطے اور بات چیت کی کوشش کی، لیکن بدقسمتی سے وہ بات آگے نہیں بڑھ سکی۔”

یہ جملہ ایک ناکام مصالحتی کوشش کی نشاندہی کرتا ہے، اور ساتھ ہی اس بات کا اشارہ بھی کہ پی ٹی آئی اب بھی کسی حد تک افہام و تفہیم کی راہ نکالنے میں دلچسپی رکھتی ہے—اگر دوسرے فریق سے آمادگی ہو۔


فوج کے ساتھ تعلقات: ماضی کی تلخیاں یا نئی حقیقت؟

یہ بیان ایک جانب جہاں ماضی کی کشیدگی کا اعتراف ہے، وہیں یہ ایک نئے توازن کی طرف اشارہ بھی ہے، جس میں:

  • فوج انتظامی معاملات سے دور ہے

  • سیاسی حکومت بااختیار دکھائی دے رہی ہے

  • مگر پسِ منظر میں اعتماد کا بحران اب بھی موجود ہے

یہ صورتحال پاکستان کے جمہوری مستقبل کے لیے فیصلہ کن ہو سکتی ہے—کیا فوج واقعی “نیوٹرل” ہے، یا یہ محض وقتی پالیسی ہے؟


تجزیہ: علی امین گنڈا پور کا لہجہ مفاہمتی ہے یا محتاط؟

  • انہوں نے فوج پر براہِ راست تنقید نہیں کی

  • مداخلت نہ ہونے کو مثبت انداز میں پیش کیا

  • ڈائیلاگ کی ناکامی کا ذکر کر کے دروازے کھلے چھوڑے

یہ سب اشارے بتاتے ہیں کہ شاید پی ٹی آئی فی الحال ٹکراؤ کے بجائے توازن کی پالیسی اپنانے کی کوشش کر رہی ہے—خاص طور پر خیبر پختونخوا میں۔


یہ بیان اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ پی ٹی آئی اب ٹکراؤ کی سیاست سے نکل کر بات چیت اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اپنے مؤقف کو پیش کرنا چاہتی ہے۔
علی امین گنڈا پور نے نہ صرف فوج کی غیر مداخلت کو سراہا بلکہ اعتماد کی کمی کو ایک حقیقت مان کر اس پر بات چیت کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں