“مجھے افسوس ہے کہ یہ بیان میرے منہ سے نکلا” – وزیر اطلاعات کا وضاحتی بیان

اسلام آباد:
وفاقی وزیر اطلاعات نے حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے اپنے ایک متنازع بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ:

“مجھے افسوس ہے کہ یہ الفاظ میرے منہ سے نکلے، لیکن یہ الفاظ میں نے شدید ذہنی دباؤ اور تکلیف کے عالم میں کہے۔”

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ان کے بیان کا سیاق و سباق توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، جس سے عوامی جذبات مجروح ہوئے، اور وہ اس پر دل سے معذرت خواہ ہیں۔

🗣️ بیان کے پس منظر میں دباؤ اور جذباتی کیفیت

وزیر اطلاعات نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ جملے انہوں نے ایک ایسی صورتحال میں کہے جہاں ان پر شدید سیاسی، سماجی اور ذاتی دباؤ تھا۔ ان کا کہنا تھا:

“میرا مقصد کسی کی دل آزاری یا بے ادبی نہیں تھا۔ میں ایک جذباتی لمحے میں تھا، اور اگر میرے الفاظ سے کسی کو دکھ پہنچا ہے تو میں تہہ دل سے معذرت چاہتا ہوں۔”

🤝 حکومتی مؤقف میں نرمی اور وضاحت

وفاقی حکومت کے ترجمان کے مطابق وزیر اطلاعات کے اس بیان کو صرف ایک غلط وقت پر ادا کیا گیا جملہ سمجھنا چاہیے، نہ کہ حکومت کی پالیسی یا سوچ کا عکاس۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیر صاحب ہمیشہ شائستہ اور ذمہ دارانہ لب و لہجہ اختیار کرنے کے قائل رہے ہیں، اور اس واقعے سے سبق لے کر وہ مستقبل میں مزید احتیاط برتیں گے۔

وزیر اطلاعات کا معذرت خواہانہ لہجہ اور وضاحت اس بات کی علامت ہے کہ سیاسی قیادت کو اپنی زبان اور عوامی ردعمل کی حساسیت کا احساس ہے۔ ایسے بیانات، چاہے کسی بھی کیفیت میں دیے جائیں، عوامی سطح پر اثر ڈال سکتے ہیں — اور ان پر بروقت معافی دینا ایک ذمہ دار رویہ ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں