“اگر تمغے چاپلوسی، بربادی اور تماشہ بنانے پر ملتے ہیں، تو قطار لمبی ہو چکی ہے!”

یہ ملک عجائبات کی سرزمین بنتا جا رہا ہے، جہاں اصولوں پر کھڑے رہنے والوں کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے، اور آئین و جمہوریت کی پامالی پر داد و تمغے بانٹے جاتے ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب انصاف کی علامت بننے والے جج کو کوئی قومی اعزاز نہیں دیا جاتا، جبکہ ان کرداروں کو عزت بخشی جاتی ہے جنہوں نے ریاستی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا، تو سوال بنتا ہے: کیا یہ ریاست واقعی انصاف پر کھڑی ہے؟

جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ، جنہوں نے اپنی غیر آئینی سیاسی دلچسپیوں سے ملک کو سیاسی دلدل میں دھکیلا، آج بھی بعض حلقوں میں “خاموش ہیرو” سمجھے جا رہے ہیں۔ کیا ان کی خدمات کو “تمغۂ تماشہ” دینا زیادہ مناسب نہ ہوگا؟

اور سکندر سلطان راجہ، جن کی نگرانی میں ایسا الیکشن ہوا جس پر نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بیرونِ دنیا بھی انگلیاں اٹھیں، انہیں شاید “تمغۂ انتخابی فریب” سے نوازا جانا چاہیے۔

ایسا لگتا ہے جیسے اس ملک میں تمغکیا کوئی حکومت خود کو ایوارڈ دے سکتی ہے؟ے کردار، دیانت اور آئین سے وفاداری پر نہیں بلکہ نظام کو بگاڑنے کی مہارت پر دیے جا رہے ہیں۔

جب کردار فروشوں کو ایوارڈ ملیں اور اصول پسندوں کو نظر انداز کیا جائے، تو سمجھ لیں کہ نظام بیماری کا شکار ہو چکا ہے۔ یہ تمغے اب اعزاز نہیں، بلکہ نظام کے زوال کا سرٹیفکیٹ بن چکے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں