“کسانوں کا استحصال بند نہ ہوا تو ملک گندم بحران کا شکار ہو سکتا ہے — وفاقی وزیر خوراک کا دوٹوک اعلان!”

وفاقی وزیر خوراک نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسانوں کو ان کی گندم کی مناسب قیمت نہ دی گئی تو آئندہ سال وہ گندم کی کاشت سے ہاتھ کھینچ لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسان دن رات محنت کر کے ملک کے لیے خوراک پیدا کرتے ہیں، لیکن جب فصل تیار ہوتی ہے تو انہیں ان کی محنت کا جائز معاوضہ نہیں ملتا۔

وزیر خوراک نے کہا کہ کسان اگر اپنی پیداوار بیچ کر کھاد، بیج، ڈیزل اور دیگر اخراجات پورے نہ کر سکے تو وہ اگلے سیزن میں گندم اگانے کے قابل نہیں ہوں گے۔ اس وقت گندم کی امدادی قیمت اور مارکیٹ میں کسانوں کو ملنے والی قیمت میں واضح فرق ہے، جو کسانوں کی حوصلہ شکنی کا سبب بن رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے خریداری مراکز پر شفافیت، فوری ادائیگی اور درست قیمت کی ضمانت نہ دی تو ملک میں گندم کی پیداوار میں کمی آ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ہمیں مزید گندم درآمد کرنا پڑے گی — جو ملکی زرمبادلہ پر بوجھ ڈالے گا۔

وفاقی وزیر نے کسانوں کو یقین دلایا کہ حکومت ان کے مسائل کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور کوشش ہے کہ آئندہ بجٹ میں زرعی پالیسیوں کو کسان دوست بنایا جائے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں