“غیرقانونی حج کا سفر—نہ صرف مہنگا، بلکہ خطرناک بھی!”
متحدہ عرب امارات نے حج کے سفر کو محفوظ، منظم اور قانون کے دائرے میں رکھنے کے لیے سخت ضوابط نافذ کر دیے ہیں۔ اب کوئی بھی اماراتی شہری یا رہائشی اگر بغیر باقاعدہ اجازت نامے کے حج کے لیے سعودی عرب جاتا ہے، تو اسے 50 ہزار درہم جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔
یہ اجازت نامہ حاصل کرنا جنرل اتھارٹی آف اسلامک افیئرز، اوقاف و زکٰوۃ کے ذریعے لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس قانون کا مقصد یہ ہے کہ صرف وہی افراد حج پر جائیں جو مکمل رجسٹریشن، تربیت اور حفاظتی اقدامات کے تحت تیار ہوں۔
اماراتی حکام نے خبردار کیا ہے کہ بغیر اجازت حج پر جانا نہ صرف آپ کے پیسے اور وقت کا ضیاع ہے، بلکہ اس سے آپ کی جان اور دوسرے عازمین کی سلامتی کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
اسی طرح، سعودی وزارت داخلہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ بغیر اجازت نامے کے حج کرنے یا کرنے کی کوشش کرنے پر 20 ہزار ریال جرمانہ ہوگا۔ وزٹ ویزا پر سعودی عرب آنے والوں کو یکم ذو القعدہ سے 14 ذو الحجہ تک مکہ مکرمہ میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔
مزید یہ کہ اگر کسی کفیل نے وزٹ ویزے پر آئے ہوئے افراد کی واپسی بروقت رپورٹ نہ کی تو اسے 50 ہزار ریال جرمانہ، چھ ماہ قید، اور ملک بدر کیے جانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔
ان سخت قوانین کا مقصد غیر مجاز افراد کو روکنا ہے تاکہ باقاعدہ اندراج شدہ حاجیوں کو وہ تمام سہولیات، سیکیورٹی اور روحانی سکون میسر آ سکے جو حج جیسے مقدس فریضے کے لیے ضروری ہیں۔
👉 حج کا ارادہ ہو تو صرف قانونی راستہ اپنائیں—تاکہ آپ کا سفر عبادت بھی ہو، اور حفاظت سے بھرپور بھی۔




