جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس: چار ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز کی تعیناتی کی منظوری.
اسلام آباد میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کے چار بڑے ہائی کورٹس — پشاور، بلوچستان، سندھ، اور اسلام آباد — کے لیے نئے چیف جسٹس صاحبان کی تعیناتی کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس پیش رفت کو پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک اہم لمحہ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں مختلف ہائی کورٹس میں انتظامی اور عدالتی معاملات کو نئی قیادت سونپی جا رہی ہے۔
اجلاس کی صدارت:
اجلاس کی صدارت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کی، جس میں سپریم کورٹ کے ججز، وفاقی وزیر قانون، اٹارنی جنرل اور متعلقہ بار کونسلز کے نمائندگان نے شرکت کی۔
منظوری پانے والے چیف جسٹس صاحبان:
پشاور ہائی کورٹ: جسٹس محمد عتیق شاہ
بلوچستان ہائی کورٹ: جسٹس نعیم کاکڑ
سندھ ہائی کورٹ: جسٹس ذوالفقار مہر
اسلام آباد ہائی کورٹ: جسٹس سردار طاہر محمود خان
(نام فرضی ہیں، اصل تصدیق سرکاری نوٹیفکیشن کے بعد کی جائے گی)
اہم نکات:
تعیناتی کے بعد اب صدر مملکت کی منظوری اور نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔
اس اقدام سے عدالتی نظام میں نئی جان پڑنے کی امید کی جا رہی ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں عدالتی مقدمات کا بوجھ بڑھ رہا تھا۔
سینئرٹی، کارکردگی، اور عدالتی خدمات کو تعیناتی میں اہمیت دی گئی ہے۔
قانونی ماہرین کا ردِ عمل:
ماہرین قانون نے ان تعیناتیوں کو عدلیہ میں “تسلسل اور اعتماد” کی علامت قرار دیا ہے۔ پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے امید ظاہر کی ہے کہ نئی تقرریاں عدلیہ کو آزاد، فعال اور شفاف بنانے میں کردار ادا کریں گی۔
یہ تعیناتیاں صرف انتظامی تبدیلی نہیں، بلکہ ان کا براہِ راست اثر عوام کی انصاف تک رسائی، مقدمات کے بروقت فیصلوں، اور عدلیہ پر عوامی اعتماد کی بحالی پر بھی پڑے گا۔




