عمران خان کو مشورہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن سے ہاتھ ملائیں” — فواد چوہدری کا تہلکہ خیز بیان
تحریک انصاف کے سابق رہنما کا اندرونی ٹیم پر شدید تنقید، حکمتِ عملی پر سوالات
سابق وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما فواد چوہدری نے ایک بار پھر پارٹی قیادت پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے نہ صرف عمران خان کی حکمت عملی کو ناکام قرار دیا ہے، بلکہ انہیں مولانا فضل الرحمٰن سے سیاسی مفاہمت کا مشورہ بھی دے دیا ہے۔
فواد چوہدری کا مکمل بیان:
“اگر میں عمران خان کو مشورہ دوں تو وہ یہ ہوگا کہ مولانا فضل الرحمٰن سے ہاتھ ملائیں۔ اگر آپ گنڈا پور کی جگہ کوئی نیا چیف منسٹر لانا بھی چاہتے ہیں تو وہ مولانا فضل الرحمٰن کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔ جب تک خان صاحب کی یہ ٹیم ہے، خان صاحب جیل میں ہی رہیں گے، کیونکہ ان میں کپیسٹی ہی نہیں ہے۔“
پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت پر سوالیہ نشان
فواد چوہدری نے پارٹی کی موجودہ قیادت کو ناتجربہ کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ:
-
عمران خان کے آس پاس موجود ٹیم میں سیاسی بصیرت اور حکمت عملی کی “کپیسٹی” نہیں۔
-
جب تک یہی ٹیم خان صاحب کے ساتھ ہے، کوئی بڑی سیاسی کامیابی ممکن نہیں۔
-
پارٹی قیادت کو بڑے فیصلوں اور “سیاسی ریئلٹی” کا ادراک کرنا ہوگا۔
مولانا فضل الرحمٰن سے مفاہمت کا مشورہ – نیا سیاسی بیانیہ؟
فواد چوہدری کا یہ مشورہ کہ عمران خان مولانا فضل الرحمٰن سے مفاہمت کریں، ایک حیران کن یوٹرن ہے، خاص طور پر اس لیے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ماضی میں شدید سیاسی اور ذاتی اختلافات رہے ہیں۔
یہ تجویز اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ:
-
فواد چوہدری سیاسی تنہائی سے نکلنے کے لیے اتحاد کو ضروری سمجھتے ہیں۔
-
وہ سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں حکومت بچانے یا تبدیلی لانے کے لیے جے یو آئی (ف) کی حمایت ناگزیر ہے۔
-
مستقبل کی سیاست میں مزاحمت سے زیادہ مصالحت کی پالیسی کامیاب ہو سکتی ہے۔
گنڈا پور پر تنقید – خیبر پختونخوا کی سیاست ہدف
فواد چوہدری نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی قیادت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ:
-
اگر عمران خان گنڈا پور کو ہٹانا چاہتے ہیں تو مولانا فضل الرحمٰن کی حمایت کے بغیر یہ ممکن نہیں۔
-
کے پی کی سیاست میں جے یو آئی (ف) اب بھی ایک مضبوط قوت ہے، جسے نظر انداز کرنا سیاسی ناپختگی ہوگی۔



