“عمران خان کی 7 مقدمات میں اب تک ضمانت کی درخواست تک دائر نہیں ہوئی” — سینئر کورٹ رپورٹر ثاقب بشیر کا انکشاف

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے قانونی معاملات ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، جب سینئر کورٹ رپورٹر ثاقب بشیر نے انکشاف کیا کہ عمران خان کی جانب سے ابھی تک سات اہم مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں ہی دائر نہیں کی گئیں۔ یہ انکشاف نہ صرف قانونی ٹیم کی حکمتِ عملی پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ پارٹی کے اندرونی حالات اور ممکنہ سیاسی چالوں کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔

کیا یہ قانونی سستی ہے یا دانستہ چال؟

بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی مقدمے میں ضمانت دائر نہ کرنا غیر معمولی بات ہوتی ہے، خاص طور پر جب ملزم سیاسی طور پر فعال ہو اور ملک کی سب سے بڑی جماعت کی قیادت کر رہا ہو۔ ایسے میں یہ سوالات جنم لیتے ہیں:

کیا عمران خان کی قانونی ٹیم جان بوجھ کر معاملات کو التوا میں ڈال رہی ہے؟

کیا اندرونِ خانہ کچھ ایسے عناصر موجود ہیں جو پارٹی چیئرمین کے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں؟

“خان کے غدار بھی موجود ہیں” — سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں

سیاسی مبصرین اور خود پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کے اردگرد کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو درحقیقت ان کے ساتھ مخلص نہیں۔ یہ افراد یا تو ذاتی مفاد کی خاطر پارٹی میں شامل ہوئے تھے، یا پھر مبینہ طور پر کسی مخصوص ایجنڈے کے تحت پارٹی کے اندر نقب لگا رہے ہیں۔

یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ متعدد اہم مواقع پر عمران خان کے قریبی سمجھے جانے والے افراد نے یا تو خاموشی اختیار کی، یا غیر واضح مؤقف اپنایا، جو ان کی وفاداری پر سوال اٹھاتا ہے۔

قانونی ٹیم کی کارکردگی پر سوالیہ نشان:

ایک طرف عمران خان درجنوں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، تو دوسری طرف ان کی قانونی ٹیم کی جانب سے کئی کیسز میں اب تک ضمانت کی درخواست نہ دینا عوام اور کارکنان کے لیے پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔ اس پر ستم ظریفی یہ کہ پارٹی کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔

سیاسی جنگ میں “اندر کے دشمن” سب سے خطرناک؟

تحریک انصاف کے حامیوں میں یہ تاثر بھی پھیل رہا ہے کہ پارٹی کی موجودہ مشکلات کی بڑی وجہ صرف بیرونی دباؤ یا اسٹیبلشمنٹ نہیں بلکہ اندرونی غدار بھی ہیں جو دانستہ یا نادانستہ طور پر عمران خان کو قانونی اور سیاسی طور پر کمزور کر رہے ہیں۔

ثاقب بشیر کا انکشاف محض ایک قانونی خبر نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی اشارہ ہے۔ اگر واقعی عمران خان کے قریبی حلقوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو انہیں کمزور کرنے کی سازش میں ملوث ہیں، تو یہ صرف تحریکِ انصاف ہی نہیں بلکہ پاکستان کی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں