عمران خان کی ہدایت: دس محرم کے بعد ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے — علیمہ خان سے ملاقات کے بعد اہم اعلان.
پاکستان کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل متوقع ہے۔ سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان نے پارٹی قیادت کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ دس محرم کے بعد احتجاجی تحریک کا باضابطہ آغاز کیا جائے۔ یہ فیصلہ ایک اہم اندرونی مشاورتی ملاقات کے بعد سامنے آیا، جس میں ان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے بھی ان سے جیل میں ملاقات کی اور میڈیا سے گفتگو کی۔
علیمہ خان کی ملاقات کے بعد انکشاف
علیمہ خان نے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا:
“عمران خان بالکل پُرعزم ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اب مزید خاموشی نہیں، دس محرم کے بعد ملک بھر میں عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا جائے گا۔”
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے تحریک انصاف کی قیادت کو پیغام دیا ہے کہ عوام کو متحرک کیا جائے، احتجاجی حکمت عملی طے کی جائے، اور گرفتاریوں اور دباؤ کے باوجود پیچھے نہ ہٹا جائے۔
تحریک کا مقصد اور پس منظر
سیاسی مقدمات اور قید کے خلاف احتجاج
پارٹی رہنماؤں کی گرفتاریوں اور سیاسی انتقامی کارروائیوں پر ردِ عمل
“فوجی حمایت یافتہ حکومت” کے خلاف بیانیہ اجاگر کرنا
نئے اور شفاف انتخابات کا مطالبہ
عمران خان نے واضح کیا ہے کہ اب تحریک صرف انصاف کے لیے نہیں بلکہ آئین، ووٹ کے احترام اور جمہوریت کی بحالی کی جنگ ہوگی۔
دس محرم کے بعد کی حکمت عملی
چونکہ محرم الحرام کا مہینہ مذہبی احترام کا متقاضی ہے، اس لیے تحریک کا آغاز اس کے بعد کیا جائے گا۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق:
احتجاجی جلسے اور جلوسوں کا شیڈول ترتیب دیا جا رہا ہے
وکلا برادری اور سول سوسائٹی کو ساتھ ملانے کی کوششیں تیز ہو چکی ہیں
خواتین ونگ، یوتھ اور سوشل میڈیا ٹیم کو متحرک کرنے کے لیے پیغامات دیے جا چکے ہیں
یہ فیصلہ عمران خان کی گرفتاری اور پارٹی پر کریک ڈاؤن کے باوجود ان کے مؤقف کی سختی اور عوامی رابطے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔ دس محرم کے بعد اگر تحریک شدت اختیار کرتی ہے، تو ملک ایک نئی سیاسی کشمکش میں داخل ہو سکتا ہے، جہاں عوامی سڑکیں، عدالتی ایوان، اور میڈیا محاذ ایک بار پھر سرگرم ہو جائیں گے۔




