“عہدہ عمران خان کا، وفاداری کہیں اور کی؟ گنڈا پور کا نیا بیانیہ: میں خود ہی حقدار تھا!”
عدیل راجہ کے اس انکشاف نے پی ٹی آئی کی “وفاداری برانڈڈ” سیاست کے غبارے سے اچھی خاصی ہوا نکال دی ہے۔ ان کے مطابق، علی امین گنڈا پور اب نہ عمران خان کے وزیراعلیٰ رہے، نہ اُن کے نظریے کے امین، بلکہ اب وہ اسٹیبلشمنٹ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
موصوف نے ایک میٹنگ میں نہ صرف بشریٰ بی بی اور علیمہ خان کو خوب “خراجِ تحقیر” پیش کیا، بلکہ یہ بھی فرمایا کہ:
“مجھے عمران خان نے ضرور وزیراعلیٰ بنایا، لیکن اصل حقدار تو میں خود ہی تھا!”
اب بھئی، واہ!
کیا خوب منطق ہے:
“خان صاحب نے احسان نہیں کیا، میں تو پہلے ہی اس قابل تھا!”
جیسے استاد کو شاگرد کہے: “آپ نے پڑھایا ضرور ہے، لیکن پاس تو میں اپنی ذہانت سے ہی ہوا ہوں!”
یہ بیان دراصل اُس پرانی “سیاسی خود پسندی” کی تازہ مثال ہے، جہاں اقتدار ملنے کے بعد نظریہ، وفاداری، بیانیہ — سب پیچھے رہ جاتے ہیں، اور آگے صرف ذاتی انا، طاقت کا نشہ اور اداروں سے بنا کر چلنے کی سیاست آتی ہے۔
پی ٹی آئی جسے کبھی نظریاتی تحریک کہا جاتا تھا، اب “میرٹ پر وزیراعلیٰ بننے” کے دعوؤں اور “فیملی پرسنلز کو گالیاں دینے” والی گفتگوؤں میں گِھری ہوئی ہے۔
یہ واقعہ صاف بتاتا ہے کہ:
-
پارٹی اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہے۔
-
ذاتی مفادات نے وفاداری کو نگل لیا ہے۔
-
اور جب عمران خان خود مشکل میں ہیں، تو قافلے کے کئی رہنما راستہ بدل چکے ہیں۔
تو اب اگر کوئی سوال کرے کہ “پی ٹی آئی میں وفاداری کس کی ہے؟”
تو جواب ہوگا:
“جس کے پاس پاور ہے، وفاداری بھی وہیں ہے!”



