“سیاست میں کوئی مستقل دشمن یا دوست نہیں ہوتا، صرف مفادات مستقل ہوتے ہیں!”
پاکستانی سیاست کی تاریخ تضادات، یو ٹرنز اور وقتی مفاہمتوں سے بھری پڑی ہے۔ وقت کے ساتھ بدلتے بیانیے، ذاتی مخالفتیں اور الزامات، اکثر اسی اسٹیج پر دوستیوں میں بدلتے نظر آتے ہیں۔ نواز شریف اور لغاری خاندان کا تعلق بھی ایسی ہی ایک سیاسی قسط کی عکاسی کرتا ہے۔
ماضی میں نواز شریف نے اس وقت کے صدر فاروق لغاری پر کڑی تنقید کی۔ انہیں “انگریزوں کے کتوں کو نہلانے والا” تک کہہ دیا، اور “بددیانت” کے القابات سے نوازا۔ یہ وہ وقت تھا جب لغاری نے پیپلز پارٹی سے علیحدگی اختیار کی تھی، اور نواز شریف ان کے سیاسی رویے اور کردار کو نشانہ بنا رہے تھے۔
مگر وقت بدلا، حالات بدلے، اور سیاسی فائدے کے تقاضے بھی تبدیل ہو گئے۔
آج اویس لغاری — فاروق لغاری کے صاحبزادے — نہ صرف ن لیگ کی حکومت کا حصہ ہیں بلکہ ہلالِ امتیاز جیسے اعلیٰ سول اعزاز کے حامل بھی ہیں۔
یہ محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستانی سیاست میں نظریات سے زیادہ وقتی اتحاد اور مفادات کی سیاست غالب ہے۔ جس شخص کے باپ پر ماضی میں شدید ذاتی حملے کیے گئے، آج اس کا بیٹا اتحادی بن کر وزارت کے مزے لوٹ رہا ہے۔
سیاست میں نہ دوست مستقل ہوتے ہیں، نہ دشمن۔ وقتی ضرورت، طاقت کا توازن، اور سیاسی فائدہ اکثر پرانے بیانیوں، الزامات اور اصولوں کو بہا لے جاتے ہیں۔ عوام یاد رکھتی ہے، مگر سیاست دان بھول جاتے ہیں — یا بھول جانا ہی سیاست کی پہلی شرط ہے۔



