“پاک بھارت کشیدگی، بیڈو سیٹلائٹ اور پاکستانی برتری: ایک تزویراتی جائزہ”

رواں برس مئی میں پاک بھارت سرحد پر ایک محدود مگر شدید نوعیت کی جھڑپ ہوئی جسے کئی تجزیہ کار “mini-war” قرار دے چکے ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک نے سرکاری سطح پر اس کی وسعت کو محدود بیان کیا، لیکن زمینی و فضائی حقائق کچھ اور کہانی سنا رہے ہیں۔

بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی کے مطابق، پاکستان نے اس جنگ میں چین کے “بیڈو نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم” کی مدد سے حیران کن انداز میں تکنیکی اور عملی برتری حاصل کی — جو مستقبل میں بھی پاکستان کو فضائی اور دفاعی برتری دلوا سکتا ہے۔

🛰️ بیڈو سیٹلائٹ سسٹم: ایک نیا موڑ

چین کا Beidou Navigation Satellite System (BDS) ایک عالمی سطح کا متبادل نیویگیشن نیٹ ورک ہے، جس کی افادیت اب صرف تجارتی یا شہری استعمال تک محدود نہیں رہی — بلکہ یہ دفاعی سطح پر بھی خاصا مؤثر اور GPS کا متبادل بن چکا ہے۔

پاکستان نے حالیہ جھڑپ میں بیڈو سسٹم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے:

فضائی اور زمینی میدان میں بہتر صورتِ حال سے آگاہی (situational awareness) حاصل کی؛

میزائلوں کی درست نشانہ بازی میں بہتری لائی؛

فوج اور فضائیہ کے درمیان ہم آہنگ اور ریئل ٹائم رابطہ برقرار رکھا؛

دشمن کی فضائی نقل و حرکت کا بروقت سراغ لگایا۔

یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ممکن ہوا جب روایتی جنگی نظام یا صرف مقامی ریڈارز پر انحصار ناکافی ہوتا جا رہا ہے۔

💣 پاک فضائیہ کی مشترکہ کمانڈ کا کردار

مئی کی جنگ میں پاک فضائیہ (PAF) اور بری فوج (Pak Army) کے درمیان مشترکہ جنگی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم (Joint Command & Control) نے نہ صرف آپریشنز کو ہم آہنگ بنایا بلکہ دشمن کی پیش رفت کو بروقت روکا۔

پاک فضائیہ نے بظاہر:

بھارتی فضائیہ کے کئی مشن ناکام بنائے؛

دو بھارتی جنگی طیاروں کو گرا کر فضائی حدود کی مکمل حفاظت کی؛

بغیر کسی بڑے نقصان کے اپنی حکمت عملی کو نافذ کیا۔

یہی وہ پہلو ہے جس پر امریکی صدر نے بھی تبصرہ کیا، اور عالمی میڈیا نے اعتراف کیا کہ پاکستان نے نسبتا بہتر پوزیشن حاصل کی۔

🔥 بھارت کو کیا چیلنج درپیش ہیں؟

بھارت کی بڑی دفاعی صلاحیت کے باوجود:

اس کی انٹیلیجنس اور ریئل ٹائم کوآرڈینیشن میں خامیاں سامنے آئیں؛

فضائیہ کو PAF کی ریڈار اور جیمنگ ٹیکنالوجی کا مؤثر جواب نہیں ملا؛

کئی ماہرین نے بھارتی پالیسی کو “overconfident yet under-prepared” قرار دیا۔

پراوین ساہنی جیسے بھارتی تجزیہ کاروں نے بھی اعتراف کیا کہ “پاکستان اب جنگ کی صورت میں صرف دفاعی نہیں، فعال اور تزویراتی جنگ کی صلاحیت رکھتا ہے۔”

🌍 عالمی ردِ عمل

امریکہ، چین، اور روس جیسے ممالک نے اس محدود جنگ پر فوری ردِعمل دیا:

امریکی صدر نے اپنے بیانات میں “جہازوں کے گرنے” اور “پاکستان کی کارروائی” کا تذکرہ کیا؛

چین نے خاموشی سے پاکستان کی مدد جاری رکھی، خصوصاً تکنیکی شعبے میں؛

اقوامِ متحدہ نے “فوری کشیدگی کم کرنے” پر زور دیا، لیکن یہ واضح ہے کہ علاقائی طاقت کا توازن بدل رہا ہے۔

🔍 کیا مستقبل میں ایسی جنگ دوبارہ ہو سکتی ہے؟

جی ہاں — جب دو جوہری طاقتیں بارڈر پر بار بار ٹکرا رہی ہوں، اور پانی، کشمیر، لائن آف کنٹرول، دہشتگردی، اور بین الاقوامی اثر و رسوخ جیسے حساس معاملات درپیش ہوں، تو کسی بھی لمحے یہ کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔

لیکن اب فرق صرف روایتی اسلحہ یا افواج کی تعداد میں نہیں ہوگا — بلکہ:

ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ نیویگیشن، ڈرون وارفیئر، اور سائبر کنٹرول فیصلہ کن عوامل ہوں گے؛

اور پاکستان نے بیڈو جیسے سسٹمز سے خود کو اس میدان میں بھی مضبوط ظاہر کیا ہے۔

🛡️ نتیجہ: برتری صرف ہتھیار سے نہیں، حکمت عملی سے آتی ہے

پاکستان کی حالیہ کارکردگی — خصوصاً فضائی اور سیٹلائٹ تعاون کے ذریعے — ثابت کرتی ہے کہ برتری اب صرف ٹینک یا جہاز سے نہیں، بلکہ دماغ، رابطہ، اور تیز فیصلوں سے حاصل ہوتی ہے۔

آنے والے دنوں میں اگر کوئی تصادم دوبارہ ہوتا ہے، تو پاکستان کی جنگی صلاحیتیں اب ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہیں — جہاں سیٹلائٹ، سائبر اور ریئل ٹائم وارفیئر کلیدی حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں