بلوچستان میں انٹرنیٹ کی بندش — ایک عوامی حق کا مقدمہ

بلوچستان میں 6 اگست 2025 سے موبائل انٹرنیٹ سروسز بند ہیں، اور اس بندش نے صوبے بھر میں عوامی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق، یہ اقدام سکیورٹی خدشات اور آزادی کے دن کے قریب ممکنہ دہشت گردی کے واقعات کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا۔ لیکن عوامی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ فیصلہ شہریوں کے بنیادی حقوق، معاشی سرگرمیوں اور تعلیمی مستقبل پر کاری ضرب ہے۔

تعلیمی شعبے کا نقصان
صوبے کے ہزاروں طلبہ اور طالبات آن لائن کلاسز، امتحانات، اور تحقیقی منصوبوں سے محروم ہیں۔ دیہی علاقوں کے طلبہ پہلے ہی محدود تعلیمی وسائل کے ساتھ جدوجہد کر رہے ہیں، اور اب انٹرنیٹ کی بندش نے یہ فرق مزید بڑھا دیا ہے۔ یونیورسٹیز اور اسکولز کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز غیر فعال ہو گئے ہیں، جس سے تعلیمی تسلسل مکمل طور پر ٹوٹ گیا ہے۔

معیشت اور روزگار پر اثرات
فری لانسرز، ای کامرس کاروبار اور آن لائن سروسز فراہم کرنے والے ہزاروں افراد کا روزگار ٹھپ ہو چکا ہے۔ انٹرنیٹ کے بغیر ڈیجیٹل لین دین ممکن نہیں، جس سے نہ صرف انفرادی آمدنی بلکہ صوبے کی مجموعی معیشت کو بھی نقصان ہو رہا ہے۔ چھوٹے کاروباری مالکان اور آن لائن مارکیٹ پلیسز اس بندش کے سبب مالی بحران کا شکار ہیں۔

میڈیا اور اظہارِ رائے پر قدغن
موبائل انٹرنیٹ کی معطلی نے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے بروقت رپورٹنگ تقریباً ناممکن بنا دی ہے۔ خبریں، تصاویر اور ویڈیوز وقت پر بھیجنا ممکن نہیں رہا، جس سے صوبے کے حالات سے متعلق سچائی تک رسائی محدود ہو گئی ہے۔ یہ صورت حال ایک طرح کے “انفارمیشن بلیک آؤٹ” کے مترادف ہے۔

عوامی نقطۂ نظر
بندش کا مقصد اگرچہ سکیورٹی کو مضبوط بنانا بتایا جا رہا ہے، لیکن اس کی قیمت عام شہریوں کو تعلیم، روزگار اور اظہارِ رائے کے بنیادی حقوق سے محروم ہو کر ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ یہ اقدام وقتی حل تو ہو سکتا ہے، مگر طویل المدتی نقصان عوام اور صوبے کی ترقی کے لیے سنگین ہے۔

آگے کا راستہ
حکومت کو چاہیے کہ سکیورٹی اور شہری سہولیات کے درمیان متوازن حکمت عملی اختیار کرے۔ انٹرنیٹ کو مکمل طور پر بند کرنے کے بجائے محفوظ زونز یا محدود رسائی جیسے متبادل اپنائے جائیں، تاکہ عوامی اور معاشی زندگی کو مفلوج ہونے سے بچایا جا سکے۔بلوچستان میں انٹرنیٹ کی بندش، طلبہ دشمن اور تعلیمی قتل عام ہے — بی ایس او

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں