ایران نے اسرائیل کی مبینہ جارحیت پر آذربائیجان سے سخت مؤقف اپناتے ہوئے پوچھا: کیا تم نے ہماری سرزمین پر حملہ کرنے والوں کو راستہ دیا؟
ایران اور آذربائیجان کے درمیان حالیہ کشیدگی ایک نازک موڑ پر پہنچ گئی جب ایران نے باضابطہ طور پر آذربائیجان سے مطالبہ کیا کہ وہ ان رپورٹس کی فوری اور شفاف تحقیقات کرے، جن میں الزام ہے کہ اسرائیل نے ایران پر حملے کے لیے آذربائیجان کی فضائی حدود اور ممکنہ طور پر سرزمین استعمال کی۔
ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے آذربائیجانی صدر الہام علی یف سے براہ راست فون پر رابطہ کیا، جس میں ایران نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شمالی سرحد کے راستے دشمن ڈرونز کی آمد کا شبہ ہے۔ انٹیلی جنس رپورٹس اور شہریوں کی گواہی کے مطابق، اردبیل اور رشت جیسے شمالی علاقوں میں حملے کے وقت ڈرون یا جیٹ طیاروں کی آوازیں سنی گئیں۔
آذربائیجان نے اس الزام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اُس کی زمین یا فضائی حدود کسی دوسرے ملک کو ایران پر حملے کے لیے ہرگز استعمال نہیں کرنے دی گئیں۔ آذربائیجان کی وزارت خارجہ کے مطابق، یہ الزامات “غیر ذمہ دارانہ” ہیں اور اس کا مقصد باہمی تعلقات کو خراب کرنا ہو سکتا ہے۔ آذربائیجانی وزیر خارجہ جیحون بایراموف نے ایرانی ہم منصب سے رابطہ کر کے واضح کیا کہ باکو ہرگز جنگ کا فریق نہیں بنے گا۔
یہ کشیدگی ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب اسرائیل اور ایران کے درمیان تناؤ پہلے ہی شدید ہے، اور کئی علاقائی و عالمی طاقتیں دونوں ممالک کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کر رہی ہیں۔
ایران کے سیکیورٹی ادارے اب فضائی راڈار ڈیٹا، سیٹلائٹ فوٹیج اور زمینی شواہد کی مدد سے معاملے کی مزید چھان بین کر رہے ہیں تاکہ پتہ چلایا جا سکے آیا آذربائیجان کی حدود کو دانستہ یا غیر دانستہ طور پر استعمال کیا گیا۔
ایرانی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں آذربائیجان کے اسرائیل سے گہرے دفاعی تعلقات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، خاص طور پر اسلحہ کی فراہمی، ڈرون ٹیکنالوجی اور فضائی انٹیلیجنس کے شعبے میں۔




