ایرانی رہنما کا روس پر کھلا اعتراض — “ایس 400 نہ دینا دوستی نہیں، موقع پرستی ہے!”

ایران کے سابق ڈپٹی اسپیکر علی مطہری نے روس کے طرزِعمل پر شدید تنقید کرتے ہوئے ایک اہم نکتہ اٹھایا ہے:
اگر روس ایران کا اتحادی ہے، تو اسے جدید دفاعی نظام ‘ایس 400’ فراہم کرنے سے انکار کیوں؟

علی مطہری کے اس بیان نے ایران اور روس کے تعلقات پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران نے یوکرین جنگ میں روس کو ڈرونز فراہم کیے، جن کے ذریعے روس نے یوکرین پر متعدد حملے کیے۔

■ علی مطہری کا موقف:
مطہری نے کہا:

“روس نے ایران سے ڈرون لیے، یوکرین کے خلاف ان کا استعمال کیا، مگر جب ایران نے S-400 میزائل سسٹم کی بات کی تو خاموشی اختیار کر لی۔”
“روس نے سعودی عرب اور ترکی جیسے ممالک کو یہ سسٹم دے دیے، مگر ایران کو نظر انداز کیا۔ کیا یہی وہ دوستی ہے جس کی بات پیوٹن کرتے ہیں؟”

■ پس منظر: S-400 کیا ہے؟
S-400 Triumf روس کا ایک جدید اور طاقتور ایئر ڈیفنس سسٹم ہے، جو:

طیاروں، بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں کو نشانہ بنا سکتا ہے

400 کلومیٹر تک ٹارگٹ کو مار سکتا ہے

دنیا کے چند موثر ترین دفاعی سسٹمز میں شمار ہوتا ہے

ترکی، سعودی عرب، بھارت اور چین جیسے ممالک کو یہ سسٹم فروخت کیا جا چکا ہے — مگر ایران کو اب تک یہ دستیاب نہیں۔

■ ایران-روس “دوستی” کی حقیقت؟
یہ سوال اب کھل کر اٹھنے لگا ہے کہ:

اگر ایران، روس کا اتحادی ہے تو دفاعی معاملات میں مساوی سلوک کیوں نہیں؟

کیا روس صرف ایران کو یوکرین کے لیے استعمال کر رہا ہے؟

کیا روس ایران کو طاقتور بنانے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے؟

علی مطہری جیسے رہنما ان سوالات کو عوام کے سامنے لا کر ایران کی خارجہ پالیسی پر ایک نیا زاویہ دے رہے ہیں۔

■ روس کا مفاد؟
تجزیہ کاروں کے مطابق، روس کا طرزِعمل مکمل طور پر اپنے مفادات پر مبنی ہے:

وہ ایران کو ڈرونز کے لیے تو استعمال کرتا ہے، مگر اسلحہ کی برابری نہیں چاہتا

خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب کو خوش رکھنے کے لیے ان کو ترجیح دی جاتی ہے

ترکی جیسے نیٹو اتحادی کو بھی S-400 دے کر مغربی اتحاد میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کی گئی

ایران شاید روس کے لیے ایک ٹول (Tool) ہے — نہ کہ حقیقی اسٹریٹیجک پارٹنر۔

■ ایرانی پالیسی پر اثر؟
مطہری جیسے آوازیں ایران میں بڑھ رہی ہیں جو:

چین و روس پر اندھے اعتماد پر سوال اٹھا رہی ہیں

ایران کی خودمختاری، دفاع اور مفاد کو ترجیح دینے کا مطالبہ کر رہی ہیں

مطالبہ کر رہی ہیں کہ ایران کو صرف جذباتی اتحاد نہیں، عملی حمایت چاہیے

علی مطہری کا بیان صرف روس کے رویے پر تنقید نہیں، بلکہ ایران کی خارجہ پالیسی کی اصلاح کا مطالبہ بھی ہے۔ اگر ایران عالمی سطح پر خود کو ایک برابر کا کھلاڑی سمجھتا ہے، تو اسے اپنے اتحادیوں سے بھی برابری کی بنیاد پر سلوک کا تقاضا کرنا ہوگا — ورنہ “دوستی” صرف ایک فریب بن کر رہ جائے گی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں