“کیا پاکستان کرکٹ اپنی ساکھ کھو رہا ہے؟”
ٹی ٹوئنٹی بیٹرز اور بولرز کی تازہ ترین آئی سی سی رینکنگ میں ٹاپ 10 کی فہرست سے پاکستان کے تمام بیٹرز اور بولرز کا باہر ہونا نہ صرف ایک اعداد و شمار کی خبر ہے بلکہ قومی کرکٹ کے لیے ایک الارم بیل ہے۔ ماضی قریب میں بابر اعظم اور محمد رضوان مسلسل بیٹنگ چارٹ کے ٹاپ 3 میں نظر آتے تھے، اور شاہین شاہ آفریدی یا حارث رؤف بولنگ میں دنیا کے بڑے خطرات میں شمار ہوتے تھے۔ لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ نہ بیٹنگ میں کوئی پاکستانی کھلاڑی ٹاپ 10 میں ہے اور نہ ہی بولنگ میں۔
یہ زوال کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کیا یہ کھلاڑیوں کی فارم کا مسئلہ ہے یا پاکستان کرکٹ سسٹم کی خامی؟ ایک رائے یہ ہے کہ ہمارے بیٹرز نے پچھلے سالوں میں اپنی اسٹرائیک ریٹ اور پاور ہٹنگ میں وہ جدت نہیں اپنائی جو جدید ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا تقاضا ہے۔ دوسری طرف، بولرز کی کارکردگی میں تسلسل کی کمی اور فٹنس کے مسائل بھی واضح ہیں۔ اہم مواقع پر انجریز، ناقص ڈیتھ بولنگ، اور پریشر میچز میں پلاننگ کی کمی پاکستان کے بولرز کو پیچھے دھکیل رہی ہے۔
دنیا بھر کی ٹیمیں اپنی بینچ اسٹرینتھ مضبوط کر رہی ہیں، نئے ٹیلنٹ کو آگے لا رہی ہیں اور ان کی اسکلز کو جدید کرکٹ کے معیار پر ڈھال رہی ہیں۔ اس کے برعکس، پاکستان کرکٹ اب بھی روایتی انداز پر زیادہ انحصار کر رہی ہے۔ اگر یہ رویہ برقرار رہا تو نہ صرف ٹی ٹوئنٹی بلکہ دیگر فارمیٹس میں بھی رینکنگ میں زوال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ وقت ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور ٹیم مینجمنٹ حقیقت کا سامنا کریں، کھلاڑیوں کو جدید فٹنس اور اسکل ٹریننگ فراہم کریں، پاور ہٹنگ کوچز اور ڈیتھ بولنگ اسپیشلسٹ لائیں، اور نوجوان ٹیلنٹ کو عالمی معیار پر تیار کریں۔ ورنہ، وہ وقت دور نہیں جب رینکنگ کی یہ گراوٹ ہماری جیت کی امیدوں کو بھی زمین بوس کر دے۔




