اسحاق ڈار کا کابل میں اہم دورہ — افغان قیادت سے کالعدم تنظیموں کے خلاف ٹھوس کارروائی کا مطالبہ!
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بدھ کے روز کابل میں افغان قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی سے اہم ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، سیکیورٹی تعاون، اور خطے میں امن و استحکام کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
🔍 مرکزی نکتہ: دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی
ملاقات میں اسحاق ڈار نے خاص طور پر اس امر پر زور دیا کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جائے۔ انہوں نے افغان قیادت سے کہا کہ وہ پاکستان میں سرگرم کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کی مجید بریگیڈ کے خلاف ٹھوس، قابلِ پیمائش اور فوری اقدامات کرے۔
یہ مطالبہ پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے تناظر میں کیا گیا، جن میں ان تنظیموں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
🤝 دوطرفہ تعلقات پر بات چیت
فریقین نے تجارت، سرحدی انتظام، افغان مہاجرین، اور عوامی روابط پر بھی گفتگو کی۔
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان افغان عوام کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے، لیکن سلامتی پاکستان کی پہلی ترجیح ہے۔
افغان وزیر خارجہ نے بھی خطے میں امن کے لیے باہمی تعاون پر زور دیا، مگر TTP پر براہِ راست کوئی واضح یقین دہانی نہیں دی گئی۔
⚠️ پس منظر: افغانستان سے دراندازی ایک بڑا مسئلہ
پاکستان کئی بار اس خدشے کا اظہار کر چکا ہے کہ افغان سرزمین پر موجود کالعدم TTP محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان میں حملے کرتی ہے، جس سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے کئی علاقے متاثر ہوئے ہیں۔
اسی طرح BLA کی مجید بریگیڈ بھی چینی شہریوں اور تنصیبات پر حملوں میں ملوث رہی ہے، جس سے چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کو بھی خطرات لاحق ہیں۔
📌 نتیجہ: سخت مؤقف، مگر عمل درآمد باقی
اگرچہ اسحاق ڈار کی ملاقات ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن اصل کامیابی تب ہو گی جب افغان حکومت ان تنظیموں کے خلاف عملی اور مؤثر کارروائی کرے۔ صرف بیانات کافی نہیں، بلکہ زمینی سطح پر تبدیلی ضروری ہے تاکہ دونوں ممالک میں امن قائم ہو سکے۔



