غزہ کے النصر ہسپتال پر اسرائیل کا دوہرا حملہ—صحافیوں، مریضوں اور امدادی کارکنوں کا خون بہا کر عالمی قوانین کو پامال کر دیا گیا۔
25 اگست 2025 کو جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں واقع النصر میڈیکل کمپلیکس (ناصر ہسپتال) کو اسرائیلی فضائیہ نے دو بار نشانہ بنایا۔ پہلا حملہ عمارت کی اوپری منزل پر کیا گیا، اور چند منٹ بعد جب صحافی، امدادی کارکن اور شہری جائے وقوعہ پر پہنچے، دوسرا حملہ کر دیا گیا—جسے دنیا بھر میں “ڈبل ٹاپ” یعنی دوہرے حملے کی حکمتِ عملی کے نام سے جانا جاتا ہے، اور جو بین الاقوامی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی تصور کی جاتی ہے۔
غزہ پر او آئی سی ہنگامی اجلاس کے موقع پر اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کی ملاقات
نقصان اور متاثرین:
اس المناک واقعے میں کم از کم 20 سے 21 افراد شہید ہوئے، جن میں 5 معروف صحافی، ریسکیو اہلکار اور عام شہری شامل ہیں۔
ہلاک ہونے والے صحافیوں میں حسام المصری (رائٹرز)، مریم ابو دقہ (اے پی)، محمد سلامہ (الجزیرہ) شامل تھے—جنہوں نے اپنی جان کی قربانی دے کر سچ کو دنیا کے سامنے لانے کی کوشش کی۔
متاثرین میں زخمیوں کی تعداد بھی درجنوں میں بتائی جا رہی ہے، جن میں کئی کی حالت تشویشناک ہے۔
پاکستان کا شدید ردعمل:
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے غیر انسانی، غیر قانونی اور گھناؤنا جرم قرار دیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ حملہ جینوا کنونشن، بین الاقوامی انسانی حقوق اور صحافت کی آزادی جیسے بنیادی عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
پاکستان نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ، اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ:
وہ اس واقعے پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں۔
اسرائیل کو انسانی حقوق کی ان پامالیوں پر جواب دہ ٹھہرایا جائے۔
اور غزہ کے نہتے شہریوں کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے۔
عالمی قوانین کی خلاف ورزی:
طبی مراکز، ایمبولینس، صحافی اور امدادی کارکن جنگی قانون کے تحت محفوظ تصور کیے جاتے ہیں۔ ان پر حملے جنگی جرائم (War Crimes) کے زمرے میں آتے ہیں۔ “ڈبل ٹاپ” جیسے حملے، جہاں جان بوجھ کر پہلے حملے کے بعد موقع پر پہنچنے والوں کو نشانہ بنایا جائے، نہ صرف غیر اخلاقی ہیں بلکہ بین الاقوامی جنگی ضابطوں کے منافی بھی ہیں۔
عالمی برادری کا ردعمل:
اقوام متحدہ کے نمائندوں نے بھی اس حملے کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
صحافتی تنظیموں نے عالمی سطح پر آواز بلند کرتے ہوئے کہا کہ سچ بولنے والوں کو خاموش کر کے اسرائیل حقائق چھپانا چاہتا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیل کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دینے کی تیاری کر رہی ہیں۔
النصر ہسپتال پر حملہ صرف ایک عمارت پر بمباری نہیں، بلکہ انسانیت، سچ اور ضمیر پر حملہ ہے۔ یہ واقعہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے، مگر سوال یہ ہے:
کیا دنیا واقعی جاگے گی؟




