“لاہور ہائیکورٹ نے ریاست مخالف مواد کے مقدمے میں پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید کی ضمانت منظور کر لی”

لاہور ہائیکورٹ نے ریاست مخالف مواد اپ لوڈ کرنے کے مقدمے میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی کارکن صنم جاوید کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ عدالت کے جسٹس فاروق حیدر نے صنم جاوید کی گرفتاری کے بعد ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران سنایا۔ عدالت نے صنم جاوید کو پانچ لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی، جس کے بعد انہیں قانونی طور پر رہائی کی راہ مل گئی۔

صنم جاوید کے وکیل میاں علی اشفاق نے عدالت میں مؤقف پیش کیا کہ ان کی موکلہ نے نہ تو کوئی ریاست مخالف بیان دیا ہے اور نہ ہی کوئی ایسا مواد اپ لوڈ کیا جس سے کسی بھی قسم کی ریاستی یا قومی سلامتی کو نقصان پہنچا ہو۔ وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ صنم جاوید کو فوری ضمانت دی جائے تاکہ وہ اپنے قانونی حقوق کا تحفظ کر سکیں۔

دوسری جانب ایف آئی اے نے ضمانت کی درخواست کی سختی سے مخالفت کی اور موقف اختیار کیا کہ صنم جاوید کے خلاف ثبوت موجود ہیں اور انہیں گرفتار کر کے مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کا دعویٰ تھا کہ صنم جاوید نے سوشل میڈیا کے ذریعے ایسی پوسٹس کیں جو ریاست کے خلاف سازش کی کیفیت رکھتی ہیں، اس لیے انہیں عدالت سے ضمانت نہیں دی جانی چاہیے۔

تاہم عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد فیصلہ دیا کہ ایف آئی اے کی جانب سے پیش کردہ شواہد ضمانت روکنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ آئندہ کی سماعت تک صنم جاوید کو ضمانت پر رہا کیا جائے، تاکہ وہ اپنی قانونی کارروائی میں حصہ لے سکیں اور مقدمے کا دفاع کر سکیں۔

یہ مقدمہ اس وقت سامنے آیا جب پاکستان میں سیاسی اور معاشرتی کشیدگی عروج پر ہے، اور سوشل میڈیا پر اظہارِ رائے کے حوالے سے قوانین پر بحث جاری ہے۔ پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف ایسے مقدمات اکثر سیاسی دباؤ یا انتقامی کارروائی کے طور پر دیکھے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے اس کیس کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

صنم جاوید کی ضمانت کی منظوری کو سیاسی حلقوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے آزادی اظہار کا اہم سنگ میل قرار دیا ہے، جبکہ حکومت اور ایف آئی اے کے حامی اسے قومی سلامتی کے حوالے سے ضروری اقدام سمجھتے ہیں۔

یہ فیصلہ عدالت کی جانب سے اس بات کا اعادہ بھی ہے کہ قانونی عمل میں ہر شہری کو مساوی مواقع ملنے چاہئیں اور ضمانت ایک بنیادی حق ہے جو کسی بھی ملزم کو بغیر مکمل ثبوت کے روکا نہیں جا سکتا۔

صنم جاوید کی رہائی کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور پارٹی رہنماؤں نے اسے انصاف کی فتح قرار دیا ہے۔ آئندہ سماعت میں کیس کی مزید تفصیلات سامنے آئیں گی، جس سے یہ واضح ہو سکے گا کہ قانونی جنگ کا اگلا مرحلہ کیسا ہوگا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں