زیارت میں بڑا واقعہ — اسسٹنٹ کمشنر افضل باقی اور ان کے بیٹے کو مسلح افراد نے اغوا کر لیا

زیارت — بلوچستان کے ضلع زیارت کی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کے روز نامعلوم مسلح افراد نے اسسٹنٹ کمشنر زیارت، افضل باقی، کو ان کے بیٹے سمیت اغوا کر لیا۔ حکام کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب افضل باقی اپنے اہلخانہ کے ہمراہ علاقے میں سفر کر رہے تھے۔ مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو روکا اور زبردستی انہیں اپنے ہمراہ لے گئے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق، اغوا کاروں کی تعداد چار سے چھ کے درمیان بتائی جا رہی ہے، جو جدید اسلحہ سے لیس تھے۔ واقعے کے بعد فورسز اور پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ اطراف کے راستے سیل کر دیے گئے ہیں اور ممکنہ ٹھکانوں کی نشاندہی کے لیے مقامی ذرائع سے مدد لی جا رہی ہے۔

ضلعی حکام نے کہا ہے کہ اغوا کی وجوہات اور مقاصد تاحال واضح نہیں، تاہم بعض اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ حالیہ دنوں میں علاقے میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور قبائلی کشیدگی سے جڑا ہو سکتا ہے۔

عوامی نمائندوں اور مقامی قبائلی عمائدین نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک اعلیٰ سرکاری افسر کا اغوا حکومتی رٹ پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے حکومت اور سکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ مغویوں کو فوری اور محفوظ بازیاب کرایا جائے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس ادارے بھی اس معاملے میں شامل ہو چکے ہیں اور قوی امکان ہے کہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں