فیصل آباد 9 مئی کیس کا بڑا فیصلہ: درجنوں رہنماؤں کو سزائیں، کچھ بری!
فیصل آباد میں 9 مئی 2023 کو پیش آنے والے پُرتشدد واقعات کے سلسلے میں انسدادِ دہشتگردی عدالت نے رانا ثناء اللہ کے گھر پر حملے کے کیس کا تاریخی فیصلہ سنا دیا۔ اس کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے متعدد سرکردہ رہنما، سابق وزرا، خواتین سیاستدانیں اور کارکنان شامل تھے۔ کیس کا فیصلہ ملک بھر میں جاری 9 مئی کیسز کی قانونی کارروائیوں کا ایک اہم موڑ تصور کیا جا رہا ہے۔
عدالت نے کیس میں نامزد 109 ملزمان میں سے 75 افراد کو سزائیں سناتے ہوئے 34 کو بری کر دیا۔ بری ہونے والوں میں پی ٹی آئی کے سابق مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور رکن قومی اسمبلی زین قریشی شامل ہیں، جنہیں ناکافی شواہد کی بنیاد پر الزامات سے بری کیا گیا۔
تاہم، فیصلے میں کئی اہم شخصیات کو سخت سزائیں بھی سنائی گئیں۔ پی ٹی آئی کی سینئر رہنما زرتاج گل، کنول شوذب اور دیگر 57 افراد کو دس، دس سال قید کی سزا دی گئی۔ ان افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے منصوبہ بندی کے تحت اشتعال انگیزی کی، عوام کو پرتشدد کارروائیوں پر اکسایا، اور املاک کو نقصان پہنچایا۔
عدالت نے مزید 16 افراد کو تین، تین سال قید کی سزا بھی سنائی، جن کا کردار ثانوی مگر کارروائی میں معاون قرار دیا گیا۔ مجرموں پر انسدادِ دہشتگردی ایکٹ، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، ہنگامہ آرائی، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملوں جیسے سنگین الزامات تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ دستیاب ویڈیوز، چشم دید گواہوں کے بیانات، سوشل میڈیا مواد اور دیگر شواہد کی بنیاد پر یہ ثابت ہوا کہ یہ افراد واقعے میں براہِ راست یا بالواسطہ ملوث تھے۔ عدالت نے مزید واضح کیا کہ ریاست مخالف اقدامات اور دہشتگردی کے مقدمات میں ملوث افراد کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔
یہ فیصلہ پاکستان کی سیاسی فضا میں ایک بار پھر گرمی لا سکتا ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اس فیصلے کو سیاسی انتقام قرار دیے جانے کا امکان ہے، جب کہ حکومتی حلقے اس اقدام کو قانون کی عملداری اور انصاف کی جیت قرار دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا، جس میں سرکاری و عسکری عمارتوں پر حملے، توڑ پھوڑ، اور پرتشدد مظاہرے شامل تھے۔ ان واقعات نے ملکی سیاسی منظرنامے کو مکمل طور پر تبدیل کر کے رکھ دیا، جس کے اثرات آج بھی جاری ہیں۔
فیصل آباد کیس کے اس فیصلے سے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں، چاہے وہ عوامی نمائندہ ہو یا عام شہری۔ یہ فیصلہ نہ صرف ماضی کے ایک اہم باب کا اختتام ہے بلکہ آئندہ کے لیے ایک نظیر بھی، کہ ریاستی اداروں پر حملہ سنگین جرم ہے، جس کی سزا ضرور ملے گی۔



