“مولانا فضل الرحمان کا پی ٹی آئی سے مکمل لاتعلقی کا فیصلہ: ملکی سیاست میں نیا موڑ؟”
مولانا فضل الرحمان کا پی ٹی آئی سے مکمل لاتعلقی کا اعلان پاکستانی سیاست میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے پی ٹی آئی کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی پالیسیاں پاکستان کے مفاد میں نہیں ہیں اور ملک میں ان کی موجودگی کا کوئی جواز نہیں ۔
اس فیصلے کے بعد، سیاسی منظرنامہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کے امکان کو رد کرتے ہوئے کہا کہ جب تک دونوں جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہوتا، اتحاد ممکن نہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا بیانیہ پی ٹی آئی کے بیانیے سے مختلف ہے اور دونوں کو یکجا کرنا مناسب نہیں ۔
اس تبدیلی سے حکومتی اتحاد کی پوزیشن بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کا موقف ہے کہ ملک میں سیاسی حکومت کی ضرورت ہے اور بیوروکریسی کو آزاد کرنا ضروری ہے ۔ انہوں نے فوج کو سیاست سے الگ ہونے کا مشورہ بھی دیا ہے، جس سے سیاسی بحران کے حل کی طرف اشارہ ملتا ہے ۔
مختصر یہ کہ مولانا فضل الرحمان کا پی ٹی آئی سے لاتعلقی کا فیصلہ ملکی سیاست میں ایک نیا موڑ لا رہا ہے، جو آئندہ سیاسی حکمت عملیوں اور اتحادوں پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔



