مودی کا امریکی خواب: ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے نئی لابنگ فرم کی خدمات، ہر ماہ 2.75 لاکھ ڈالر کی لاگت — اشوک سوائیں کی کڑی تنقید
“مودی کی جپھیاں اور جے شنکر کی ‘لیزر آنکھیں’ اب کہاں ہیں؟” — بھارتی تجزیہ کار اشوک سوائیں کا کڑا سوال، جب انکشاف ہوا کہ ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے ہر ماہ 2 لاکھ 75 ہزار ڈالر کی لابنگ کی جا رہی ہے۔
رپورٹ:
بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر تنقید کی زد میں آ گئے ہیں — اس بار وجہ ہے ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے امریکہ میں نئی لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرنا۔
بھارتی میڈیا اور بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق، مودی حکومت نے ایک نئی امریکی لابنگ فرم کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، جس پر ماہانہ 2 لاکھ 75 ہزار امریکی ڈالر (تقریباً 7.6 کروڑ بھارتی روپے سالانہ) خرچ کیے جا رہے ہیں۔
یہ انکشاف اس وقت ہوا جب معروف بھارتی تجزیہ کار اشوک سوائیں نے ایک ٹویٹ میں اس لابنگ مہم پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا:

“مودی نے ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے نئی لابنگ فرم ہائر کر لی۔ جپھیاں کہاں گئیں؟ جے شنکر کی laser eyes اب کام کیوں نہیں آ رہیں؟”
پس منظر: مودی، ٹرمپ اور لابنگ
نریندر مودی اور ڈونلڈ ٹرمپ کی دوستی عالمی میڈیا کا مرکز رہ چکی ہے — چاہے وہ “Howdy Modi” کا شو ہو یا “Namaste Trump” کی سیاسی اسٹیجنگ۔ لیکن اب جب امریکہ میں انتخابی موسم پھر گرم ہو رہا ہے، تو مودی حکومت نے سابق صدر ٹرمپ سے تعلقات کو دوبارہ گرم کرنے کی کوشش میں لابنگ کا سہارا لیا ہے۔
مقصد یہ ہے کہ اگر ٹرمپ دوبارہ صدر منتخب ہوں، تو بھارت کو امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک، تجارتی، اور سیکیورٹی معاملات میں فائدہ حاصل ہو۔
لابنگ کی نوعیت:
امریکہ میں غیر ملکی حکومتیں اکثر مخصوص مفادات کی تکمیل کے لیے لابنگ فرموں کی خدمات حاصل کرتی ہیں۔ یہ فرمیں:
امریکی سینیٹرز اور کانگریس ارکان سے روابط قائم کرتی ہیں
میڈیا میں مخصوص بیانیہ پیش کرنے میں مدد دیتی ہیں
پالیسی سازی میں نرم گوشہ پیدا کرتی ہیں
اب بھارت بھی اسی لابنگ ماڈل کو اپنا رہا ہے — مگر سوال یہ ہے: کیا یہ وہی “عزتِ نفس” ہے جسے مودی حکومت قومی فخر قرار دیتی رہی ہے؟
اشوک سوائیں کا طنز اور عوامی ردعمل:
اشوک سوائیں نے مودی حکومت کی اس پالیسی پر بھرپور طنز کرتے ہوئے کہا کہ جب مودی نے پہلے “جپھیاں” ڈال کر اور “ذاتی تعلقات” قائم کر کے خود کو عالمی طاقتوں کا دوست ظاہر کیا تھا، تو اب لابنگ کے لیے کروڑوں روپے کیوں خرچ کیے جا رہے ہیں؟
ان کا اشارہ وزیر خارجہ جے شنکر کی ان بیانات کی طرف بھی تھا جن میں وہ “laser sharp diplomacy” کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی اس انکشاف کے بعد کئی صارفین نے کہا:
“جپھیاں ختم، اب جیبیں خالی کر کے دوستی خریدی جا رہی ہے”
“مودی نے جس ‘ویژن’ کی بات کی تھی، وہ اب صرف کرایے کے لابنگ تک محدود رہ گیا ہے”
بھارتی عوام کے لیے پیغام؟
جب بھارت میں کروڑوں افراد غربت، بے روزگاری، اور مہنگائی کا شکار ہیں، وہاں ایک غیر ملکی صدر کو خوش کرنے کے لیے ہر ماہ کروڑوں روپے خرچ کرنا سوالیہ نشان بن گیا ہے۔
تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ وہی حکومت ہے جو خود انحصاری (Atmanirbhar Bharat) کا دعویٰ کرتی ہے، اور اب وہی حکومت واشنگٹن میں پیسے کے بل بوتے پر اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔



