“مودی کا نیا پیغام: ‘آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا، پاکستان ہوشیار رہیں!’”

بھارت میں 29 مئی کو بڑی سطح کی فرضی جنگی مشق، سرحدی علاقے تیار رہیں!

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ 30 مئی 2025 کو کانپور میں ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح کے دوران پاکستان کو ایک بار پھر دیدہ دلیری سے خبردار کیا کہ “آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا ہے، کسی دھوکے میں نہ رہے!”
۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے اب دہشت گردی کے خلاف اپنی لڑائی کے لیے تین واضح اصولوں کا تعین کیا ہے، جن کے تحت کوئی بھی حملہ کرنا چاہے، اس کا “فیصلہ کن جواب” دیا جائے گا۔

1. آپریشن سندور کی پسِ منظر کی جھلک:
مودی نے اپنے خطاب میں یاد دلایا کہ گزشتہ چند ہفتوں میں بھارت نے ’آپریشن سندور‘ کے تحت پاکستان کے اندر داخل ہو کر تین مرتبہ کارروائیاں کیں۔ اُن کے بقول، “دہشت گردوں نے ہماری بہنوں کا سندور مٹانے کی جسارت کی، جس کا بدلہ ہماری فوج نے انہیں اُن کی زبان میں دیا ہے.”

انہوں نے واضح کیا کہ یہ آپریشن اسلحہ بردار بھارتی مسلح افواج نے انجام دیا، اور “یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا۔” اس کا مقصد نہ صرف گزشتہ حملوں کا جواب دینا تھا بلکہ مستقبل میں بھی کسی بھی دہشت گردانہ کارروائی کو “فیصلہ کن انداز میں” ناکام بنانا ہے۔

2. دہشت گردی کے خلاف تین اصول (مودی کے تین نکات):
مودی نے خطاب کے دوران دہشت گردی سے نمٹنے کا نیا فلسفہ تین نکات میں واضح کیا
ہر دہشت گردانہ حملے کا فیصلہ کن جواب:

“بھارت کسی بھی دہشت گردانہ حملے کو برداشت نہیں کرے گا۔ اس کا وقت، طریقہ کار اور شرائط ہمارے مسلح افواج خود طے کریں گی۔”

اس اصول کے تحت، کسی بھی صورتِ حال میں راجدھانی یا بارڈر کے قریب حملے کی کوئی گنجائش نہیں رکھی جائے گی۔

جوہری دھمکیوں سے خوف زدہ نہ ہونا:

مودی نے کہا، “انڈیا اب ایٹمی خطرات سے خوف زدہ نہیں ہوگا اور نہ ہی اس بنیاد پر کوئی فیصلہ کرے گا۔”

بظاہر وہ چاہتے ہیں کہ پوری دنیا جان لے کہ بھارت جوہری اسٹریٹیجک توازن کے باوجود کسی بھی جارحیت کے آگے پست نہیں ہونے والا۔

ریاستی اور غیر ریاستی عناصر میں فرق نہ کرنا:

“دہشت گردی کے ماسٹر مائنڈز اور انہیں پناہ دینے والی حکومتوں دونوں کو ایک ہی نظر سے دیکھا جائے گا۔”

واضح تھا کہ مودی کے الفاظ میں پاکستان کے ’سٹیٹ ایکٹر‘ (ریاستی سرپرستی یافتہ عناصر) اور ’نان سٹیٹ ایکٹر‘ (دہشت گرد تنظیمیں) کے درمیان فرق ختم کر دیا گیا ہے، اور دونوں ہی کو یکساں جواب ملے گا
3. مودی کے الزامات اور دھمکیوں کا پس منظر:
مودی نے بارہا پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی حمایت کرتا ہے اور “دہشت گردی کے خلاف بھارت کی زیرو ٹالرنس پالیسی” کے تحت ایسے عناصر کو سزا ملے گی۔

مودی نے واضح کیا، “پاکستان کا سٹیٹ ایکٹر اور نان سٹیٹ ایکٹر کا کھیل مزید نہیں چلے گا۔ دشمن جہاں کہیں ہو، اسے چھوڑا نہیں جائے گا۔”
ایک اور بیان میں انہوں نے کہا کہ “اگر انڈیا پر دہشت گردانہ حملہ ہوا تو اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔”
4. کانپور کا جلسہ اور مواقع:
یہ جلسہ پہلگام میں پیش آنے والے دہشت گردانہ حملے کے فوراً بعد مودی کا پہلا عوامی خطاب تھا
۔ اس حملے نے بھارتی حکمرانوں میں پاکستان کے خلاف سخت ردِ عمل کا ماحول پیدا کیا تھا۔

مودی نے اسی روز کانپور میں 47,600 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا اور کئی ترقیاتی اسکیموں کا افتتاح کیا۔ انہوں نے تقریب کے دوران “میٹرو ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا” اور محروم طبقات کے بچوں کو بھی میٹرو کا تعارف کروایا
باوجود اس کے کہ یہ ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کے منصوبے معاشی ترقی کے لیے ضروری ہیں، مودی نے اپنے خطاب کا بیشتر حصہ دہشت گردی اور قومی سلامتی کے مسئلے پر مرکوز کیا۔

5. پاکستان کی جانب سے ممکنہ ردِّ عمل:
پاکستانی حکومت کی پالیسی رہی ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے تنازعات دور کرنا چاہتی ہے، لیکن مودی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ “دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔”

مودی کے الزامات پر پاکستان نے ماضی میں بارہا ان کو مسترد کیا اور کہا کہ “بھارت اپنی اندرونی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے۔”

اس بار بھی پاکستانی وزارت خارجہ یا فوجی ترجمان ممکنہ طور پر بیانات دے کر اپنی پوزیشن واضح کریں گے کہ کوئی بھی آپریشن صرف بھارتی سرحد کے اندر ہو سکتا ہے، اور پاکستان اس کی اجازت نہیں دے گا۔

6. علاقائی و بین الاقوامی معنویت:
آپریشن سندور جیسی کارروائیاں گزشتہ کچھ عرصے سے خطے میں بھارتی جارحیت اور پاکستان کے خلاف بھارتی موقف کو بڑھاوا دے رہی ہیں۔

مودی کی توجہ صرف “دہشت گردی کا موثر جواب” دینا نہیں، بلکہ جوہری توازن کو بھی بھارت کے حق میں مضبوط کر کے رکھنا ہے۔

عالمی طاقتیں، بالخصوص امریکہ اور چین، بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر یہ صورتحال مزید بگڑی تو خطے میں امن و امان کو سنگین خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

مودی کا “آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا” والا پیغام ایک واضح دھمکی ہے جس کا مقصد نہیں صرف پاکستان کو خوفزدہ کرنا بلکہ بھارتی عوام کو بھی یقین دلانا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کڑی حکمتِ عملی اختیار کی گئی ہے۔ تین اصولوں کے تحت اب بھارت ہر دہشت گردانہ حملے کا فیصلہ کن اور بروقت جواب دے گا، ایٹمی دھمکیوں سے نہیں ڈرے گا، اور ریاستی و غیر ریاستی دہشت گردوں میں امتیاز ختم کر دیا گیا ہے۔ اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے اور دونوں ممالک کے عوام کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں