موٹروے پاکستان کے لیے ایک نعمت ہے، مگر ڈرائیورز کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اس کا حسن گہنا رہا ہے۔
پاکستان میں موٹروے سسٹم یقیناً ایک ایسا منصوبہ ہے جس نے نہ صرف ملک کی سفری سہولتوں کو عالمی معیار تک پہنچایا بلکہ وقت، ایندھن اور فاصلے کی بچت کے ذریعے عوامی فلاح میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ این ایچ اے، موٹروے پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے قابلِ تعریف خدمات انجام دے رہے ہیں — چاہے وہ صفائی ہو، سیکیورٹی، ایمرجنسی سروسز یا ٹریفک مینجمنٹ۔
تاہم، افسوس کی بات یہ ہے کہ کئی مسافر اس سہولت کی قدر کیے بغیر لائن ڈسپلن، سپیڈ لمٹ اور اوورٹیکنگ قوانین کو مسلسل نظر انداز کرتے ہیں۔ اکثر گاڑیاں بغیر اشارہ دیے لین بدلتی ہیں، بائیں لین میں تیز رفتاری سے چلنے والے ڈرائیورز دائیں طرف اوورٹیک کرتے ہیں، اور بعض اوقات حد سے زیادہ رفتار سے گاڑیاں چلاتے ہیں، جو خود ان کے لیے بھی خطرناک ہے اور دوسروں کے لیے بھی۔
موٹروے صرف ایک شاہراہ نہیں، بلکہ ذہنی ترقی، شہری شعور اور قومی نظم و ضبط کا آئینہ ہے۔ جب ہم وہاں قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں، تو ہم دراصل اس ترقی کو کھوکھلا کر رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم نہ صرف اس سہولت کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں بلکہ اپنی ڈرائیونگ عادات میں بھی بہتری لائیں۔




