“قومیں تب برباد ہوتی ہیں جب ان کی بیٹیاں علم کی بجائے لائکس کی پیاس میں گم ہو جائیں۔”

تعارف: بیٹیوں کا اصل زیور — تعلیم یا ٹرینڈ؟

سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں ہر چیز virality کے پیچھے دوڑ رہی ہے، وہاں بیٹیوں کو حقیقی رول ماڈلز سے جوڑنا ازحد ضروری ہو گیا ہے۔ علم، اخلاق، حیا اور کردار کو چھوڑ کر جب آئیڈیلز “ڈانس چیلنجز” اور “لائیو سیشنز” بن جائیں تو سمجھ لیجیے کہ ایک نسل ہاتھوں سے نکل رہی ہے۔


سوشل میڈیا: آزادی یا بربادی؟

ٹک ٹاک، انسٹاگرام ریلز، اور دیگر پلیٹ فارمز نے نوجوانوں خصوصاً لڑکیوں کو ایسی فوری شہرت کی طرف مائل کر دیا ہے جو وقتی تو ہے، لیکن تباہ کن نتائج کی حامل بھی۔
یہ پلیٹ فارمز اگرچہ مثبت استعمال کے بھی مواقع فراہم کرتے ہیں، مگر بدقسمتی سے بیشتر مواد بے مقصد، بے حیائی پر مبنی اور اخلاقی زوال کا عکاس بن چکا ہے۔


لائکس کا جنون — تعلیم سے فرار

ہزاروں کی تعداد میں نوجوان لڑکیاں آج لائکس، فالورز اور ویوز کے پیچھے اپنا وقت، توجہ، اور سب سے بڑھ کر کردار گنوا رہی ہیں۔
کیا ہمیں اپنی بیٹیوں کو یہ نہیں سکھانا چاہیے کہ:

  • شہرت کا اصل ذریعہ کردار ہوتا ہے، کپڑے نہیں۔

  • مقام وہ ہوتا ہے جو علم اور عقل سے حاصل ہو، نہ کہ “کانٹینٹ” سے۔


بیٹیوں کے لیے اصل آئیڈیلز

ہمارے معاشرے کو خدیجہؓ، فاطمہؓ، عائشہؓ جیسے روشن کرداروں کو پھر سے زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ بیٹیوں کو چاہیے کہ وہ:

  • کتاب سے دوستی کریں، فیشن سے نہیں۔

  • تعلیم کو اپنا زیور بنائیں، فلٹرز کو نہیں۔

  • کردار میں چمک پیدا کریں، چہرے پر نہیں۔


ماں باپ اور اساتذہ کی ذمہ داری

یہ صرف لڑکیوں کا مسئلہ نہیں، والدین اور اساتذہ کا بھی امتحان ہے۔ اگر ہم اپنی بیٹیوں کو بچپن سے یہ نہ سکھائیں کہ ان کی پہچان ان کا علم اور حیاء ہے، نہ کہ ان کا لُک یا ڈریس اپ، تو پھر ہم بھی اس بگاڑ کے شریک ہیں۔

فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔
کیا ہم اپنی بیٹیوں کو امت کی معمار بنانا چاہتے ہیں یا کسی برانڈ کا اشتہار؟
کیا ہم چاہتے ہیں کہ وہ قوم کی تربیت کریں یا فالورز کی گنتی؟
اگر بیٹی کو علم، کتاب، ادب، اور وقار سے جوڑا جائے، تو وہ نہ صرف خود سنورتی ہے بلکہ پوری نسل کو سنوارتی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں