جو قومیں خودداری چھوڑ دیں، وہ تلوے چاٹنے کے بعد بھی تھپڑ ہی کھاتی ہیں۔

جب پاکستانی کسی غیر ملکی لیڈر — جیسے ٹرمپ — کے رشتہ دار بننے کے خواب دیکھتے ہیں، تو ضروری ہے کہ انہیں یاد دلایا جائے کہ یہ وہی امریکہ ہے جس نے فلسطین میں مسلمانوں کا اس بے دردی سے قتلِ عام کیا جیسے کسی کمرے میں مچھر مار اسپرے چھڑکا جاتا ہے۔ اور افسوسناک بات یہ ہے کہ اسی امریکہ کے سابق صدر کو ہماری اپنی حکومت نے کچھ عرصہ قبل نوبل انعام کے لیے نامزد کرنے کی کوشش کی تھی — شاید اس لیے کہ غلامی کی زنجیریں جتنی چمکتی ہیں، اتنی ہی محبوب لگتی ہیں۔

پھر ہمارے معروف مذہبی رہنما، حافظ صاحب، لگے ہاتھوں امریکہ جا کر ڈنر بھی کر آئے۔ مقصد؟ شاید تاثر دینا کہ ہم تابع فرمان ہیں، بس آنکھوں سے اشارہ کریں، اور ہم جھک جائیں۔ لیکن یہ سب کرنے کا صلہ کیا ملا؟
ایران سے سستی گیس لانے کا منصوبہ بنتا ہے، اور امریکہ کی ایک “آنکھ” دکھانے پر فوراً بند ہو جاتا ہے۔ کیونکہ غلاموں کو فیصلے کرنے کا حق نہیں ہوتا، صرف حکم بجا لانے کا فرض ہوتا ہے۔

ادھر بھارت ہے۔ وہ اگر امریکہ کی بات نہیں مان رہا، تو اس لیے کہ وہ پہلے اپنے قومی مفاد کو دیکھتا ہے، ڈالرز کی چمک کو نہیں۔ ہم اگر ان پر ہنستے ہیں، تو یہ ہماری اپنی ناعاقبت اندیشی ہے۔ اصل میں ہمیں خود اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔

امریکہ کبھی کسی کا دوست بلاوجہ نہیں بنتا۔ اس کی ہر “دوستی” ایک سودا ہوتی ہے — مطلب ختم، تعلق ختم۔ اور جب استعمال مکمل ہو جائے، تو امریکہ اپنے اتحادیوں کو ایسے چھوڑ دیتا ہے جیسے ٹشو پیپر — ایک بار استعمال کیا، اور پھر ردی میں پھینک دیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں