سفارتی روابط کی نئی راہیں — وزیر خارجہ کا اہم دو روزہ سرکاری دورہ ڈھاکہ
ترجمان وزارت خارجہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پاکستان کے وزیر خارجہ آج ایک اہم سفارتی مشن پر ہمسایہ ملک بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ روانہ ہو رہے ہیں۔ یہ دو روزہ دورہ حکومتِ عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش کی دعوت پر کیا جا رہا ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطوں اور تعاون کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
اس دورے کا بنیادی مقصد پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان موجودہ تعلقات کو ازسرِ نو مضبوط بنانا، باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا، اور ماضی کی تلخیوں سے آگے بڑھ کر مستقبل کی شراکت داری کی بنیاد رکھنا ہے۔ دونوں ممالک جنوبی ایشیا کی اہم ریاستیں ہیں جن کے درمیان تاریخی، ثقافتی، مذہبی اور لسانی روابط موجود ہیں۔ اس پس منظر میں یہ دورہ ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔
وزیر خارجہ اس دورے کے دوران بنگلہ دیش کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے جن میں ان کے بنگلہ دیشی ہم منصب، دیگر وزراء اور ممکنہ طور پر وزیراعظم شیخ حسینہ واجد بھی شامل ہیں۔ ملاقاتوں میں دو طرفہ امور کے علاوہ علاقائی سلامتی، تجارت، تعلیم، صحت، موسمیاتی تبدیلی، اور بین الاقوامی سطح پر باہمی تعاون کے امکانات پر بھی گفتگو متوقع ہے۔
حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں سفارتی تعلقات تیزی سے بدل رہے ہیں، ایسے میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان مثبت روابط نہ صرف دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوں گے بلکہ جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ وزیر خارجہ کے اس دورے کو ماہرین سفارتکاری ایک ’نئی شروعات‘ سے تعبیر کر رہے ہیں، جو ممکنہ طور پر ماضی کے فاصلے کم کرکے مستقبل کے لیے ایک خوشگوار راہ ہموار کرے گا۔
اس موقع پر پاکستانی وفد میں وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام بھی شامل ہیں، جو مختلف معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر بات چیت کے لیے تیار ہوں گے۔ توقع ہے کہ اس دورے کے دوران مختلف شعبہ جات میں تعاون بڑھانے کے لیے چند ابتدائی معاہدے طے پا سکتے ہیں، جن میں تعلیم، تجارت، اور ثقافت سرِ فہرست ہیں۔
بنگلہ دیش کے ساتھ پاکستان کے سفارتی تعلقات کی بحالی اور فروغ نہ صرف دو طرفہ فائدے کے لیے اہم ہے بلکہ اس سے پاکستان کا جنوبی ایشیائی خطے میں کردار بھی مزید مستحکم ہو سکتا ہے۔ اس تناظر میں وزیر خارجہ کا یہ دورہ ایک دور رس نتائج کا حامل اقدام قرار دیا جا رہا ہے، جس پر خطے کے دیگر ممالک اور عالمی مبصرین بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔



