“صرف بھارت ہی نہیں، پانی کے معاملے پر پاکستان کو چین سے بھی بات کرنی چاہیے”
پاکستان کو پانی کے بحران کے تناظر میں اپنی سفارتی حکمت عملی کو وسیع تر بنانا ہوگا، اور اس میں چین کے ساتھ براہ راست مذاکرات کو بھی شامل کرنا چاہیے۔ اگرچہ زیادہ تر توجہ بھارت کے ساتھ دریائی پانی کی تقسیم پر مرکوز رہی ہے، لیکن چین بھی پاکستان کی اہم دریاؤں میں سے بعض کا منبع ہے، جیسے دریائے سندھ کا ایک بڑا حصہ چین کے علاقے تبت سے نکلتا ہے۔
چین اگر مستقبل میں ہائیڈروپاور منصوبے یا پانی ذخیرہ کرنے کے اقدامات کرتا ہے تو اس کے اثرات پاکستان تک پہنچ سکتے ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنی آبی پالیسی میں چین کو بھی شامل کرے، تاکہ اعتماد سازی، معلومات کا تبادلہ، اور پانی کے بہاؤ کی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس وقت، ماحولیاتی تبدیلی اور گلیشیئرز کے پگھلنے جیسے عالمی مسائل پاکستان کے لیے پانی کی دستیابی کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کو نہ صرف بھارت بلکہ چین کے ساتھ بھی واٹر ڈپلومیسی پر کام کرنا چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ بحران سے بچا جا سکے۔




