اب اے ٹی ایم سے پیسے نکلوانا ہو گا مہنگا، ہر ٹرانزیکشن پر 35 روپے اضافی کٹوتی کا اعلان!

پاکستان میں صارفین کے لیے ایک اور مالی بوجھ بڑھنے والا ہے کیونکہ بینکنگ سیکٹر نے اے ٹی ایم سے کی جانے والی ہر رقم کی نکاسی پر چارجز میں اضافہ کر دیا ہے۔ اب ہر ٹرانزیکشن پر 35 روپے فی ٹرانزیکشن فیس وصول کی جائے گی، جو کہ صارفین کی جیب پر بوجھ ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی رقم نکالتے ہیں۔

نیا چارجز کا نظام کیا ہے؟
حکومت اور بینکوں کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق، ہر اے ٹی ایم ٹرانزیکشن پر صارفین سے 35 روپے فیس کٹوتی کی جائے گی۔ اس کا اطلاق ملک بھر کے تمام بینکوں کے اے ٹی ایمز پر ہوگا، چاہے وہ اپنے بینک کے ہوں یا دوسرے بینکوں کے۔ اس کا مقصد بینکنگ سیکٹر کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور اضافی اخراجات کو پورا کرنا بتایا گیا ہے۔

صارفین پر اثرات
یہ چارجز میں اضافہ خاص طور پر ان افراد کو متاثر کرے گا جو اکثر معمولی رقم نکالتے ہیں یا جن کی مالی حالت اتنی مضبوط نہیں کہ وہ اضافی فیس برداشت کر سکیں۔ دیہات اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے وہ لوگ جو بینکنگ سہولیات سے محدود حد تک استفادہ کرتے ہیں، ان کے لیے یہ ایک چیلنج بن سکتا ہے۔

بینکنگ سیکٹر کی وجوہات
بینکوں کا کہنا ہے کہ یہ اضافی چارجز اے ٹی ایم کے نظام کو بہتر بنانے، مشینری کی مرمت، سیکورٹی بڑھانے اور صارفین کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ نیز، یہ فیس بینکنگ کے اخراجات کو کم کرنے میں مدد دے گی، جس سے مجموعی مالیاتی نظام کو فائدہ پہنچے گا۔

صارفین کے لیے مشورے
کم بار اے ٹی ایم کا استعمال: صارفین کو چاہیے کہ وہ ضرورت کے مطابق بڑی رقم نکالیں تاکہ بار بار فیس ادا کرنے سے بچا جا سکے۔

آن لائن ٹرانزیکشنز کا استعمال: بینکنگ کی جدید سہولیات جیسے موبائل بینکنگ اور آن لائن ٹرانسفر کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں تاکہ فیس کی بچت ہو۔

بینک سے رابطہ: اپنے بینک سے معلومات حاصل کریں کہ کیا کوئی خاص آفر یا پیکج دستیاب ہے جو اس فیس سے مستثنیٰ ہو۔
اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے پر 35 روپے فی ٹرانزیکشن چارجز کا اضافہ صارفین کے لیے ایک نئی مالی ذمہ داری ہے جسے سمجھداری سے منظم کرنا ہوگا۔ صارفین کو چاہیے کہ وہ اس نئی پالیسی کے مطابق اپنی مالی منصوبہ بندی کریں اور ممکنہ اضافی خرچ سے بچاؤ کے لیے متبادل ذرائع استعمال کریں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں