پالیسی تبدیلی کی رکاوٹ — افغان شہری پاکستان سے منتقلی میں مشکلات کا شکار!

تفصیل:
امریکا سمیت متعدد مغربی ممالک کی امیگریشن پالیسیوں میں حالیہ تبدیلیوں کے باعث وہ افغان شہری جو طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان منتقل ہوئے تھے، اب تیسرے ملک منتقلی میں شدید رکاوٹوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

ابتدائی طور پر کئی افغان شہریوں کو مغربی ممالک کی جانب سے انخلا اور آبادکاری کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، خاص طور پر اُن افراد کو جنہوں نے نیٹو یا امریکی فورسز کے ساتھ کام کیا تھا۔ مگر اب ان ممالک نے سیکیورٹی، امیگریشن کوٹہ، یا دیگر اندرونی پالیسی وجوہات کی بنا پر اُن کی منتقلی کے عمل کو یا تو روک دیا ہے یا سست کر دیا ہے۔

اس تبدیلی کے نتیجے میں ہزاروں افغان شہری، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں، پاکستان میں غیر یقینی حالات سے دوچار ہیں۔ ان کی ویزا میعاد ختم ہو چکی ہے، کام کی اجازت نہیں، اور واپسی ممکن نہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف انسانی بحران کو جنم دے رہی ہے بلکہ پاکستان کے لیے ایک اضافی بوجھ بھی بن چکی ہے، کیونکہ ان شہریوں کی کفالت اور سلامتی کی ذمہ داری ایک طرح سے پاکستان پر آن پڑی ہے، جو خود معاشی چیلنجز کا شکار ہے۔

مطالبہ:
انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ماہرین بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر پالیسی پر نظرِ ثانی کرے تاکہ افغان شہریوں کی محفوظ اور باعزت منتقلی کو ممکن بنایا جا سکے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں