“عیدالفطر کی صبح، دشمن کے طیارے کو روکنے کا ناقابل فراموش کارنامہ!”
10 اپریل 1959، عیدالفطر کی روشن صبح، جب سرگودھا کنٹونمنٹ کے سیکٹر آپریشنز سینٹر میں ڈیوٹی پر موجود پائلٹ آفیسر رب نواز کو عید کی مبارکباد کی توقع تھی، ان کے راڈار پر ایک خطرناک سگنل ظاہر ہوا۔ یہ انڈین “درانداز” طیارے کا اشارہ تھا جو پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہو چکا تھا۔
رب نواز نے فوراً اپنی ٹریننگ کو یاد رکھتے ہوئے 15 نمبر سکواڈرن، “کوبرا سکواڈرن”، کو الرٹ کیا۔ سکواڈرن لیڈر نصیر بٹ اور فلائٹ لیفٹیننٹ محمد یونس نے فوراً پشاور ایئر بیس سے اپنے F-86 سیبر طیارے فضا میں بلند کر دیے۔
امریکی ساختہ سیبر طیارے، جو پاکستان کو CENTO اتحاد کے تحت ملے تھے، اب سرحد کی حفاظت کے لیے برق رفتاری سے دشمن کی جانب بڑھ رہے تھے۔
یہ لمحہ ثابت کرتا ہے کہ جب ملک کی حفاظت کا سوال ہو، تو تہوار اور خوشیاں پیچھے رہ جاتی ہیں، اور محافظ اپنی ڈیوٹی کو ہر چیز پر مقدم رکھتے ہیں۔




