وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر مولانا فضل الرحمان کی حفاظت کے لیے فرنٹیئر کور کی تعیناتی، ملکی سیاست میں نیا موڑ۔
پاکستان کی سیاسی فضا میں حفاظتی انتظامات ایک اہم موضوع بن چکے ہیں، خاص طور پر جب ملک کی بڑی سیاسی شخصیات کی سیکیورٹی کی ذمہ داری وفاقی حکومت کے ہاتھ میں ہو۔ حال ہی میں وزیراعظم کی ہدایت پر پاکستان کے معروف سیاسی رہنما مولانا فضل الرحمان کی سیکیورٹی کے لیے فرنٹیئر کور (ایف سی) کو تعینات کیا گیا ہے، جو اس بات کی غمازی ہے کہ حکومت ملک کے اہم سیاسی کارکنوں کی حفاظت کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔
مولانا فضل الرحمان، جو ملک کی ایک بڑی مذہبی و سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، نے ہمیشہ سے سیاسی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کیا ہے۔ ان کی سیاسی حیثیت اور عوامی حمایت کی وجہ سے ان کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت تھی۔ ایف سی کی تعیناتی سے نہ صرف ان کی ذاتی حفاظت مضبوط ہوگی بلکہ ملک میں سیاسی استحکام کے لیے بھی ایک مثبت قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ فیصلہ اس سیاسی پس منظر میں آیا ہے جہاں مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ خطرات نے حکومت کو حساس بنا دیا ہے۔ ایف سی کی موجودگی سے مولانا فضل الرحمان کو حفاظتی خطرات سے بچانے کے ساتھ ساتھ ان کی سیاسی سرگرمیوں میں بھی امن و امان برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تعیناتی وزیراعظم کی ہدایت پر کی گئی ہے تاکہ ملک میں سیاسی سرگرمیاں بلاخوف و خطر جاری رہ سکیں اور کوئی بھی غیر قانونی یا دہشت گردانہ اقدام ناکام بنایا جا سکے۔ اس سے نہ صرف مولانا فضل الرحمان بلکہ دیگر سیاسی شخصیات اور عوام کے لیے بھی ایک اعتماد کا ماحول پیدا ہوگا۔
اسی طرح، سیاسی حلقے بھی اس اقدام کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں اور اسے ملک میں جمہوری عمل کی حفاظت کے لیے ضروری قدم کہہ رہے ہیں۔ تاہم، اس کے ساتھ یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ تمام سیاسی فریقین اپنی سیاسی جدوجہد میں تحمل اور رواداری کا مظاہرہ کریں تاکہ ملک میں امن قائم رہے۔




