پاکستان نے آزادی کے بعد بھارت کے خلاف کئی اہم فوجی آپریشنز کیے ہیں، جن میں سے کچھ خفیہ تھے اور کچھ کھلے عام جنگوں کا حصہ بن
پاکستان نے آزادی کے بعد بھارت کے خلاف کئی اہم فوجی آپریشنز کیے ہیں، جن میں سے کچھ خفیہ تھے اور کچھ کھلے عام جنگوں کا حصہ بنے۔ ذیل میں ان آپریشنز کی فہرست اور ان کی مختصر تفصیل پیش کی جا رہی ہے:
1. آپریشن جبرالٹر (1965)
یہ ایک خفیہ آپریشن تھا جس کا مقصد پاکستانی فوجیوں کو کشمیری مجاہدین کے بھیس میں بھارتی زیر انتظام کشمیر میں داخل کر کے مقامی آبادی کو بھارت کے خلاف بغاوت پر اکسانا تھا۔ تاہم، یہ منصوبہ ناکام ہوا اور بھارت نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے مکمل جنگ کا آغاز کیا۔
2. آپریشن گرینڈ سلیم (1965)
یہ آپریشن 1 ستمبر 1965 کو شروع کیا گیا جس کا مقصد جموں و کشمیر کے علاقے اکھنور پر قبضہ کر کے بھارت کی سپلائی لائن کاٹنا تھا۔ ابتدائی کامیابیوں کے باوجود، بھارتی فوج کی جوابی کارروائی اور قیادت میں تبدیلی کی وجہ سے یہ آپریشن ناکام رہا اور جنگ پنجاب کے میدانوں تک پھیل گئی۔
3. آپریشن چنگیز خان (1971)
یہ آپریشن 3 دسمبر 1971 کو پاکستانی فضائیہ نے بھارت کے 11 ہوائی اڈوں پر حملوں کے ساتھ شروع کیا۔ اس کا مقصد بھارت کی فضائی طاقت کو کمزور کرنا تھا، لیکن یہ حملے محدود اثرات کے حامل تھے اور بھارت نے بھرپور جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) کی علیحدگی عمل میں آئی۔
4. آپریشن بدر (1999)
یہ آپریشن کارگل جنگ کے دوران پاکستانی فوج کی طرف سے بھارتی زیر انتظام کشمیر کے کارگل سیکٹر میں خفیہ طور پر دراندازی کے لیے کیا گیا۔ اس کا مقصد سیاچن گلیشیئر کی سپلائی لائن کو کاٹنا تھا۔ تاہم، بھارت نے بھرپور فوجی کارروائی کر کے تمام دراندازوں کو پیچھے دھکیل دیا۔
حالیہ پیش رفت: آپریشن بنیان المرصوص (2025)
10 مئی 2025 کو پاکستان نے “آپریشن بنیان المرصوص” کے تحت بھارت کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن میں بھارتی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائی بھارت کی جانب سے “آپریشن سندور” کے تحت پاکستانی علاقوں پر حملوں کے جواب میں کی گئی۔ دونوں ممالک کے درمیان اس وقت کشیدگی عروج پر ہے، اور بین الاقوامی برادری ثالثی کی کوششیں کر رہی ہے۔




