“پاکستان نے اسرائیلی قیادت کے توسیع پسندانہ عزائم اور غزہ سے جبری انخلا کے بیانات کو سختی سے مسترد کر دیا — دفتر خارجہ کا دوٹوک مؤقف!”
پاکستان نے اسرائیلی قیادت کی جانب سے ’گریٹر اسرائیل‘ کے تصور اور **غزہ سے فلسطینیوں کے جبری انخلا** کی کوششوں پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے ان بیانات کو نہ صرف **مذمت** کا نشانہ بنایا بلکہ واضح طور پر **مسترد** کر دیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا:
> “پاکستان اسرائیلی رہنماؤں کی جانب سے دیے گئے ان بیانات کی شدید مذمت کرتا ہے جن میں ’گریٹر اسرائیل‘ کے خواب دکھائے جا رہے ہیں اور غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کو جبری طور پر بے دخل کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ یہ بیانات نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ انسانی حقوق کی بدترین پامالی بھی ہیں۔”
### دوٹوک پیغام:
ترجمان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ:
* اسرائیلی قیادت کے **نوآبادیاتی عزائم** کو فوری طور پر روکے
* غزہ میں جاری **انسانی بحران** کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرے
* فلسطینی عوام کے **حقِ خودارادیت** اور **آزاد ریاست** کے قیام کو یقینی بنائے
### فلسطین پر پاکستان کا مستقل مؤقف:
پاکستان نے ایک بار پھر اپنے دیرینہ مؤقف کو دہرایا کہ:
* فلسطینیوں کو 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک **آزاد، خودمختار ریاست** ملنی چاہیے
* جس کا دارالحکومت **القدس الشریف** ہو
* پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے
### عالمی برادری کی خاموشی پر سوال:
ترجمان دفتر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ عالمی برادری کی خاموشی **قابض قوتوں کو مزید جری** کر رہی ہے۔ ایسے وقت میں جب غزہ میں انسانی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے، ہزاروں بےگناہ شہید ہو چکے ہیں، اور بنیادی ضروریات تک میسر نہیں، تو ’گریٹر اسرائیل‘ جیسے بیانات صرف **اشتعال انگیزی** اور **جارحیت** کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔
پاکستان نے اسرائیلی قیادت کے توسیع پسندانہ خوابوں کو کھلے لفظوں میں مسترد کر کے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ ہر عالمی فورم پر آواز بلند کرتا رہے گا۔ ’گریٹر اسرائیل‘ جیسے عزائم کو روکنا صرف فلسطین کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی ذمہ داری ہے۔“ایسا قحط جس میں کھانا موجود ہے، مگر پہنچ سے باہر — اقوام متحدہ نے غزہ کو باضابطہ طور پر قحط زدہ قرار دے دیا!”




