پاکستان تحریک انصاف کا قومی اسمبلی اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ، ایوان کے باہر احتجاج کی تیاری۔

“سیاسی تاریخ گواہ ہے، پابندیاں سیاست کا راستہ نہیں روک سکتیں—تو پھر پی ٹی آئی کیوں خاموش ہے؟”

پاکستان تحریک انصاف نے قومی اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے قومی اسمبلی اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی اجلاس کے آغاز پر صرف حاضری لگائیں گے اور اس کے بعد ایوان کی کارروائی میں شرکت سے بائیکاٹ کریں گے۔


پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاج کی کال

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی ارکان پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر بھرپور احتجاج کریں گے۔ اس سلسلے میں پارٹی کی پارلیمانی پارٹی نے تمام ارکان کو احتجاج میں شرکت کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

پارٹی کے مطابق یہ احتجاج:

  • حکومت کی مبینہ سیاسی انتقامی کارروائیوں کے خلاف

  • غیر منصفانہ پارلیمانی ماحول کے خلاف

  • اور جمہوری اقدار کی بحالی کے مطالبے کے طور پر کیا جا رہا ہے۔


احتجاج کا ممکنہ ایجنڈا

پارٹی ذرائع کے مطابق احتجاج کے دوران پی ٹی آئی ارکان:

  • سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کریں گے

  • اپوزیشن کو دی جانے والی “غیر مساوی سلوک” کے خلاف آواز بلند کریں گے

  • ایوان کے اندر اور باہر جمہوری کردار کے تحفظ پر زور دیں گے


سیاسی تجزیہ

ماہرین کے مطابق پی ٹی آئی کا یہ فیصلہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی ہو سکتا ہے۔
تاہم، کچھ حلقوں کا ماننا ہے کہ مسلسل بائیکاٹ اور ایوان سے دوری، خود پی ٹی آئی کی قانون سازی میں مؤثر نمائندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔

پی ٹی آئی کا قومی اسمبلی اجلاس کے بائیکاٹ اور پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاج کا فیصلہ ملک کی سیاست میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس احتجاج پر کیا ردعمل دیتی ہے اور آیا کوئی بات چیت کا دروازہ کھلتا ہے یا نہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں