پاکستان تحریک انصاف کا کارکن آج بھی پرجوش ہے، ظلم و جبر کے باوجود تحریک رکے گی نہیں.
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بہت سی تحاریک آئیں اور گئیں، مگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں کی نظریاتی وابستگی اور جذبہ ایک منفرد مثال بن چکی ہے۔ عمران خان کی گرفتاری اور اس کے بعد شروع ہونے والے حکومتی کریک ڈاؤن کے باوجود، پی ٹی آئی کا کارکن نہ جھکا ہے اور نہ بکا ہے۔
ورکرز کے حوصلے آج بھی بلند ہیں
حالیہ چند مہینوں میں یہ بیانیہ پھیلانے کی کوشش کی گئی کہ پی ٹی آئی کا گراف گر چکا ہے اور ورکر مایوس ہو چکے ہیں۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔
سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کا غلبہ آج بھی قائم ہے۔ ہر ہیش ٹیگ، ہر ویڈیو، ہر جلسے کی کلپس لاکھوں لوگوں تک پہنچ رہی ہیں۔
گھروں میں بیٹھے نوجوان، خواتین، اور بزرگ تک عمران خان کے بیانیے پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ میدان میں نکلنے کے منتظر ہیں، لیکن موجودہ حالات میں ریاستی جبر کے باوجود اپنا سیاسی اظہار جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جو کارکنان جیلوں میں ہیں، وہ سر اٹھا کر قید کاٹ رہے ہیں اور باہر موجود کارکنان انہیں اپنا ہیرو سمجھتے ہیں۔
حکومتی کریک ڈاؤن: غیر قانونی گرفتاریاں اور بنیادی حقوق کی پامالی
حکومت نے تحریک انصاف کو کچلنے کے لیے تمام غیر آئینی ہتھکنڈے اپنائے ہیں:
گھروں پر چھاپے، خواتین کی گرفتاری، اور کارکنان کو بغیر ایف آئی آر کے جیلوں میں ڈالنا معمول بن چکا ہے۔
پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کو سائبر کرائم قوانین کا غلط استعمال کر کے گرفتار کیا جا رہا ہے۔
عمران خان کے وکلاء تک کو عدالتوں میں ہراساں کیا جا رہا ہے تاکہ قانونی جنگ کو بھی روکا جا سکے۔
عمران خان کا بیانیہ ناقابل شکست ہے
عمران خان کا بیانیہ آج بھی عوام کے دلوں میں گونج رہا ہے:
“حقیقی آزادی”، “قانون کی بالادستی”، اور “کرپٹ مافیا کے خلاف جدوجہد” کے نعرے نے ہر عام پاکستانی کو متاثر کیا ہے۔
حکومت جتنا بھی زور لگا لے، نظریہ زبردستی دبایا نہیں جا سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس تحریک کے پیچھے عوام کا جذبہ ہو، وہ دیرپا کامیابی حاصل کرتی ہے۔
کریک ڈاؤن عمران خان کے لیے سیاسی فائدہ بن چکا ہے
حکومت جتنی گرفتاریاں کرے، جتنا میڈیا بلیک آؤٹ کرے، پی ٹی آئی کے ورکرز کا جوش اتنا ہی بڑھ رہا ہے۔ یہ کریک ڈاؤن وقتی طور پر خاموشی تو لا سکتا ہے، مگر جمہوری شعور اور عوامی طاقت کو زیادہ دیر نہیں روکا جا سکتا۔



