ایران کے مہرستان میں پاکستانی شہریوں کی ہلاکت: لاشوں کی شناخت اور واپسی کے لیے ایران سے تعاون کی امید کرتے ہیں، دفتر خارجہ

ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان و بلوچستان کے شہر مہرستان میں پیش آنے والا دل دہلا دینے والا واقعہ پاکستانی عوام کو غم اور صدمے میں مبتلا کر گیا ہے۔ کچھ پاکستانی مزدور، جو صرف رزق کی تلاش میں سرحد پار گئے تھے، اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ سانحہ نہ صرف ان کے خاندانوں کے لیے قیامت بن کر آیا، بلکہ پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے اور ایرانی حکام سے مکمل تعاون کی امید ظاہر کی ہے تاکہ مقتولین کی شناخت، موت کی وجوہات، اور لاشوں کی واپسی کا عمل شفاف اور فوری انداز میں مکمل ہو۔

پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ بلوچستان کے کئی شہری غربت اور بے روزگاری کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایران کا رخ کرتے ہیں تاکہ وہاں کوئی مزدوری یا کام مل جائے۔ اکثر یہ سفر غیر قانونی طریقوں سے کیا جاتا ہے، کیونکہ قانونی راستوں میں رکاوٹیں اور مالی وسائل کی کمی ان افراد کو خطرناک راہوں پر لے جاتی ہے۔ یہ مزدور کبھی تعمیراتی کاموں میں لگائے جاتے ہیں، کبھی کھیتوں میں، لیکن بدقسمتی سے، بعض اوقات یہی سفر موت کا پیغام لے کر واپس آتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، مہرستان میں پیش آنے والے حالیہ واقعے میں کم از کم 9 پاکستانی مزدور جان کی بازی ہار گئے۔ ان افراد کو گولی مار کر قتل کیا گیا، لیکن اس قتل کے محرکات تاحال غیر واضح ہیں۔ کچھ لوگ اسے فرقہ واریت سے جوڑ رہے ہیں، کچھ اسے انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کی کارروائی قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ یہ کوئی مقامی تنازعہ ہو سکتا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے فوری ردعمل دیتے ہوئے ایرانی حکام سے رابطہ کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق، تہران میں پاکستانی قونصل خانہ مسلسل مقامی انتظامیہ سے رابطے میں ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس واقعے کی مکمل، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات ہوں۔

لاشوں کی شناخت اور وطن واپسی کا مرحلہ انتہائی تکلیف دہ اور پیچیدہ ہوتا ہے، خصوصاً جب سانحہ کسی دوسرے ملک میں پیش آیا ہو۔ دفتر خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایرانی حکام بھرپور تعاون کریں گے تاکہ لاشیں جلد از جلد شناخت کی جا سکیں اور انہیں عزت و احترام کے ساتھ ان کے خاندانوں تک پہنچایا جا سکے۔

ایرانی میڈیا نے اس واقعے کو نمایاں کوریج دی ہے۔ ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ چند مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، اور مقامی سکیورٹی ادارے اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں، کیونکہ یہ واقعہ دونوں ملکوں کے تعلقات پر اثر ڈال سکتا ہے۔

پاکستان میں اس سانحے پر شدید ردعمل دیکھنے کو ملا ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگ اس کی مذمت کر رہے ہیں، اور کئی سیاسی و سماجی رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایرانی حکومت پر دباؤ ڈالے تاکہ صرف انصاف ہی نہ ہو، بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی جامع پالیسی بھی بنائی جائے۔

ایران اور پاکستان کے درمیان موجود غیر محفوظ سرحد انسانی اسمگلنگ کا اڈہ بن چکی ہے۔ غربت سے تنگ نوجوان ان ایجنٹوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو جھوٹے وعدے کر کے انہیں ایران یا عرب ملکوں میں نوکری دلانے کا جھانسہ دیتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سانحہ بھی اسی تاریک حقیقت کی ایک اور مثال ہے۔

ایسے واقعات میں انصاف صرف مجرموں کو پکڑنے سے ممکن نہیں، بلکہ ہمیں اس پورے نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے جو ان بے بس انسانوں کو غیر قانونی راستوں کی طرف دھکیلتا ہے۔ حکومتی اداروں، قانون نافذ کرنے والے محکموں، اور بین الاقوامی تعلقات کے ذمہ داروں کو ایک ساتھ بیٹھ کر پائیدار حل نکالنے ہوں گے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب بیرون ملک پاکستانیوں کو ظلم کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ کبھی سعودی عرب میں پھانسیاں، کبھی لیبیا میں ہلاکتیں، اور اب ایران میں یہ قتل۔۔۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت نے ان تمام ماضی کے واقعات سے کیا سبق سیکھا؟ ہر بار محض ایک وقتی مذمت کی جاتی ہے، اور پھر سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے۔

میڈیا اور سول سوسائٹی کا کردار اس وقت سب سے زیادہ اہم ہے۔ جب تک ایسے واقعات کو عالمی سطح پر اجاگر نہیں کیا جائے گا، ان کی سنگینی کو محسوس کرنا مشکل ہوگا۔ میڈیا کا کام صرف خبر دینا نہیں، بلکہ دباؤ ڈالنا بھی ہے، تاکہ متاثرین کی آواز دور تک سنی جا سکے اور ذمہ داروں کو جواب دہ بنایا جا سکے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں