ایرانی جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملوں کے خدشات پر پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے خطے میں بڑھتی کشیدگی پر “گہری تشویش” کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان کی اعلیٰ ترین سیکیورٹی باڈی قومی سلامتی کمیٹی (NSC) نے خطے میں حالیہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایرانی جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملوں کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پیر کے روز اسلام آباد میں ہونے والے ہنگامی اجلاس میں، سول و عسکری قیادت نے صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔
اجلاس میں کہا گیا کہ اگر خطے میں کوئی عسکری کارروائی ہوتی ہے، خاص طور پر ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ، تو اس کے اثرات صرف ایران یا امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ پوری خطے کی سیکیورٹی، معیشت اور استحکام کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی نے زور دیا کہ پاکستان ایک پرامن ہمسایہ ملک کی حیثیت سے خطے میں مزید کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ سفارتی ذرائع سے معاملے کو سلجھانے کے لیے فوری کردار ادا کرے۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول “کسی بھی تنازعے میں عدم مداخلت” ہے، مگر وہ اپنی قومی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
اجلاس میں وزارت خارجہ کو ہدایت کی گئی کہ وہ تمام متعلقہ سفارتی مشنز کے ساتھ قریبی رابطہ رکھے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے جامع ردِعمل کی حکمت عملی تیار کرے۔ ساتھ ہی متعلقہ دفاعی اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران پر کسی بھی جارحیت کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، تجارتی راستوں کی بندش اور خطے میں شدت پسند گروپوں کی سرگرمیوں میں اضافہ جیسے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جو پاکستان کے لیے بھی خطرناک ہو سکتے ہیں۔




