پاکستان کی عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتی آواز — اقوام متحدہ میں فلسطینی عوام کے لیے بھرپور وکالت، اسرائیل پر شدید تنقید اور جنگ بندی کا مطالبہ۔
پاکستان نے ایک مرتبہ پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ، بالخصوص فلسطین کی سنگین صورتحال پر کھل کر مؤقف اختیار کرتے ہوئے غزہ اور مغربی کنارے میں جاری اسرائیلی جارحیت کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اقوام متحدہ کے جاری اجلاس میں پاکستان نے فوری فائر بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کیا۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے خطاب کرتے ہوئے کہا:
“غزہ میں روزانہ سینکڑوں فلسطینی، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں، بے رحمی سے شہید ہو رہے ہیں۔ یہ جنگی جرائم ہیں، اور عالمی برادری کی خاموشی اس ظلم میں شریک ہونے کے مترادف ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی حملوں کے باعث نہ صرف ہزاروں جانیں ضائع ہو چکی ہیں بلکہ غزہ میں خوراک، پانی، دوا اور بجلی جیسی بنیادی انسانی ضروریات ناپید ہو چکی ہیں۔ پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرے اور فوری فائر بندی کروائے۔
اہم مطالبات:
فوری جنگ بندی:
تاکہ مزید بے گناہ شہریوں کی جانیں نہ جائیں۔
انسانی امداد کی بحالی:
اقوام متحدہ اور دیگر امدادی اداروں کو فوری رسائی دی جائے تاکہ محصور آبادی کو امداد پہنچائی جا سکے۔
اسرائیل کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کا احتساب:
پاکستان نے زور دیا کہ اسرائیل کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی انسانی قوانین کا پابند بنایا جائے۔
دو ریاستی حل کی حمایت:
پاکستان نے ایک بار پھر اس مؤقف کو دہرایا کہ مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہی اس دیرینہ مسئلے کا واحد پائیدار حل ہے۔
عالمی ردعمل اور پس منظر:
اقوام متحدہ میں پاکستان کی تقریر کو متعدد ترقی پذیر ممالک کی حمایت حاصل ہوئی، جبکہ اسرائیل کے حمایتی ممالک، خاص طور پر امریکہ اور چند یورپی ممالک نے حسب معمول متوازن بیان بازی کو ترجیح دی۔
پاکستان عرصہ دراز سے فلسطینیوں کے حق میں مسلسل آواز بلند کرتا آ رہا ہے، اور اس موقع پر اس کی اخلاقی و سفارتی قیادت کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔
پاکستان نے سلامتی کونسل میں نہ صرف اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کی بلکہ فوری انسانی فائر بندی، امداد کی بحالی، اور فلسطینی ریاست کے قیام کے مطالبے کے ساتھ ایک مضبوط، واضح اور اصولی مؤقف اختیار کیا ہے۔ اس مؤقف نے ایک بار پھر پاکستان کو مظلوم اقوام کی وکالت کرنے والے ممالک کی صفِ اول میں لا کھڑا کیا ہے۔




