والدین کی محبت اور بچوں کی پرورش: شفقت، نہیں تنقید چاہیے!

آج میرے بیٹے کے 9th کے رزلٹ کا اعلان ہوا۔ وہ 87% نمبر لے کر آیا، اور اس وقت میرے دل میں سب سے پہلا جذبہ فخر تھا۔ کچھ دیسی والدین کی طرح میرا دل بھی کہیں یہ سوچنے لگا کہ 3% اور ہوتے تو 90% کا ہندسہ چھو جاتا۔ لیکن میں نے خود کو روکا، کیونکہ میں کسی بھی طرح اپنے بچے پر غیر ضروری تنقید اور دباؤ ڈالنے والی ماں نہیں بننا چاہتی۔

میں نے اسے کال کی اور نہایت خوشی کے ساتھ کہا، “مجھے تم پر فخر ہے۔ تم پارٹی کرو، اور میٹرک میں اگر پوزیشن سسٹین کر سکو تو تمہیں تمہارا پسندیدہ تحفہ دلواؤں گی۔” یہ لمحہ نہ صرف خوشی کا تھا بلکہ میرے ذہن میں ایک بہت اہم موضوع نے جنم لیا، جس پر میں بہت عرصے سے لکھنا چاہتی تھی۔

والدین کا رویہ اور بچوں پر اثرات

ہمیں سمجھنا ہوگا کہ صرف جسمانی تشدد ہی بچوں کے ساتھ زیادتی نہیں ہوتی۔ والدین کی طرف سے بے جا پابندیاں، طنز، تنقید، اور ہر وقت بچوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش بھی ایک قسم کا ذہنی اور جذباتی ظلم ہے۔ یہ رویہ بچوں کے اندر یہ پیغام پہنچاتا ہے کہ جب کوئی آپ سے طاقتور ہو تو وہ آپ کو اپنے قابو میں رکھ سکتا ہے۔

اگر ہم اپنے بچوں کو سمجھنے اور ان کی انفرادیت کو قبول کرنے کی بجائے سخت پابندیوں میں جکڑتے ہیں تو آنے والے وقت میں وہ نہ صرف دوسروں بلکہ ہم ہی کو بھی ہماری دی ہوئی سختیوں کے ذریعہ کنٹرول کرنے لگتے ہیں۔ ایسے حالات میں بچے نافرمان نہیں، بلکہ دباؤ میں دبے ہوئے ہوتے ہیں۔

دیسی ماں باپ کی تربیت کی حقیقت

ہمارے معاشرے میں یا تو بچوں کو بہت سختی سے کنٹرول کیا جاتا ہے یا پھر تربیت کو بالکل نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اکثر ہم کہتے ہیں،
“منڈے منڈے ہی نیں، ویاہ کے بعد ٹھیک ہو جان گے”، یا “ضدی ہے، خود ٹھیک ہو جائے گا”۔ یہ رویہ ہمارے بچوں کی صحیح تربیت کو نقصان پہنچاتا ہے۔

مزید برآں، مذہب کا بھی اس تربیتی عمل میں صحیح استعمال نہیں ہوتا، جو ہمیں بچوں کی اخلاقی اور جذباتی پرورش میں مدد دیتا۔

والدین کے لیے مشورے

بچوں کا موازنہ کسی اور سے نہ کریں۔ وہ آپ کی تخلیق ہیں، اور ہر بچہ منفرد ہوتا ہے۔

بچوں کو ماں باپ کی لڑائی میں نہ پھنسائیں۔ اگر مسائل ہیں تو جلد از جلد حل کریں، اور بچوں کو محفوظ اور خوشگوار ماحول فراہم کریں۔

بچوں کو آزادی دیں، ان کی سوچ کو سمجھیں، اور ان کو اپنی زندگی جینے دیں۔

بچوں کو اپنے فیصلے کرنے دیں، چاہے وہ کپڑوں کا انتخاب ہو یا روزمرہ کے معمولات۔

بچوں کی غلطیوں پر سمجھداری سے بات کریں، ان کو دوسروں کے سامنے نہ شرمندہ کریں۔

اپنے بچوں کے ساتھ بات چیت کریں، ان کی رائے کا احترام کریں، تاکہ وہ آپ کے ساتھ کھل کر بات کر سکیں۔

اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں اور والدین بننے کے عمل میں بہتر ہونے کی کوشش کریں۔

بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، اپنی مشکلات ان سے بانٹیں، تاکہ وہ آپ کے بہترین دوست بن سکیں۔

آخر میں

والدین کی شفقت، محبت اور سمجھداری بچوں کی کامیابی کی بنیاد ہے۔ کوئی بھی نمبر یا کامیابی تب تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ بچوں کی ذہنی صحت اور خوشی کے ساتھ نہ ہو۔

آئیے ہم سب بہتر والدین بننے کی کوشش کریں تاکہ ہماری اگلی نسل نہ صرف تعلیمی لحاظ سے بلکہ زندگی کے ہر میدان میں کامیاب اور خوشحال ہو۔

اللہ سب بچوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور ہمیں والدین بننے کا ہنر عطا فرمائے۔ آمین۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں