جنگ میں صبر و حوصلہ: قوم کی اصل طاقت

“کافر ہو تو کرتا ہے شمشیر پہ بھروسہ، مومن ہو تو لڑتا ہے بے تیغ بھی سپاہی۔”

جنگ محض میدان میں لڑی جانے والی لڑائی کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی حکمت عملی اور ذہنی صلاحیت کا امتحان بھی ہے جس میں صبر، حوصلہ اور سکریسی (خفیہ حکمت عملی) اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

### سکریسی کی اہمیت:

جب کسی ملک کی مسلح افواج جنگ کی تیاری کرتی ہیں یا کسی آپریشن کا آغاز کرتی ہیں، تو یہ سب کچھ عوام اور میڈیا کے سامنے آشکار نہیں کیا جاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جنگی حکمت عملی اور منصوبے دشمن کی نظر سے پوشیدہ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

### پراکسی وار اور صبر کا امتحان:

جدید دور کی جنگیں اکثر پراکسی وار (بالواسطہ جنگ) کے ذریعے لڑی جاتی ہیں، جہاں براہ راست تصادم کے بجائے خفیہ آپریشنز اور غیر ریاستی عناصر کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے میں عوام کو افواجِ پاکستان، مذہبی اور سیاسی قیادت پر مکمل اعتماد رکھنا چاہیے اور صبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

### قوم کا کردار:

بطور قوم ہمارا فرض ہے کہ:

* اللہ تعالیٰ سے رجوع کریں اور افواج پاکستان کے لیے دعا کریں۔
* افواج، مذہبی و سیاسی قیادت پر اعتماد قائم رکھیں۔
* کسی بھی منفی پروپیگنڈے کا حصہ نہ بنیں۔

### غداری اور ہرزہ سرائی:

دوران جنگ ان لوگوں پر تنقید کرنا یا انہیں بدظن کرنا جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ہماری حفاظت کر رہے ہیں، غداری کے مترادف ہے۔ وہ لوگ جو محاذ پر دشمن کے خلاف برسرپیکار ہیں، بہتر جانتے ہیں کہ کب، کیسے اور کہاں وار کرنا ہے۔

سچی قوم وہ ہوتی ہے جو اپنے محافظوں کے ساتھ کھڑی ہو، ان پر اعتماد کرے اور کسی بھی مشکل وقت میں ان کا حوصلہ بڑھائے۔ جنگ صرف اسلحہ سے نہیں جیتی جاتی، بلکہ قوم کے حوصلے، صبر اور اتحاد سے فتح حاصل ہوتی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں