“ٹانک کی تحصیل جنڈولہ میں 20 ماہ کی بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق، ملک میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کو بڑا دھچکا!”
ٹانک کی تحصیل جنڈولہ میں 20 ماہ کی بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق
خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک کی تحصیل جنڈولہ میں 20 ماہ کی ایک بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جو نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ پورے علاقے کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ اس افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
بچی میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق قومی ادارہ صحت کی لیبارٹری رپورٹ کے ذریعے ہوئی۔ حکام کے مطابق متاثرہ بچی کو ویکسین کے کئی ڈوز دیے گئے تھے، لیکن یہ معلوم کرنا باقی ہے کہ آیا ویکسین کی ترسیل میں کوئی کمی تھی یا وائرس کا زور زیادہ تھا۔
خدشات اور وجوہات
ماہرین صحت کے مطابق پولیو کیسز کی دوبارہ نمودار ہونے کی بڑی وجوہات میں ویکسین سے انکار، دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات کی کمی، اور بعض علاقوں میں سیکیورٹی خدشات کے باعث پولیو ٹیموں کو درپیش رکاوٹیں شامل ہیں۔ جنڈولہ جیسے قبائلی علاقوں میں والدین کی آگاہی کی کمی بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
حکومت اور صحت حکام کا ردعمل
واقعہ سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت اور مقامی انتظامیہ نے علاقے میں ہنگامی پولیو مہم کا اعلان کر دیا ہے تاکہ ممکنہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ متاثرہ علاقے میں 5 سال سے کم عمر بچوں کی فہرست تیار کر کے گھر گھر جا کر ویکسین پلانے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔
عالمی خدشات اور پاکستان کا چیلنج
پاکستان اُن چند ممالک میں شامل ہے جہاں اب بھی پولیو کا وائرس پایا جاتا ہے، اور یہ عالمی سطح پر تشویش کا باعث ہے۔ ہر نیا کیس بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ، سفری پابندیوں اور غیر ملکی امداد پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حل کی راہیں
-
والدین کی آگاہی مہمات کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔
-
مذہبی و سماجی رہنماؤں کو شامل کر کے پولیو سے متعلق غلط فہمیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔
-
پولیو ٹیموں کو تحفظ فراہم کرنا اور ان کی سہولت کاری حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔




